رسائی کے لنکس

گریستے کی رہائی کے ساتھ، الجزیرہ کے باقی دو صحافیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا، جنھیں بھی دستمبر 2013ء میں اُنہی کے ہمراہ گرفتار کیا گیا تھا

مصر نے اتوار کے روز الجزیرہ کےصحافی کو اُن کے ملک، آسٹریلیا جانے کی اجازت دے دی ہے، جس سے قبل ممنوعہ اخوان المسلمین کی اعانت کے جرم میں اُنھیں سال بھر سے زائد کی قید کاٹنا پڑی۔

آسٹریلیا جانے کے لیے پیٹر گریستے قبرص کی ایک پرواز کے ذریعے قاہرہ سے روانہ ہوئے، جس سے قبل مصر کے حکام نے بتایا کہ صدر عبدالفتاح السیسی نے گریستے کی ملک بدری کی منظوری دی تھی۔

وہ 400 دِن قید رہے۔ اُنھیں گذشتہ سال دہشت گردی سے متعلق الزامات پر سات برس کی سزا سنائی گئی تھی، جس مقدے کو حقوق انسانی کے گروہوں نے بدنما داغ قرار دیا تھا۔
گریستے کی رہائی کے ساتھ، الجزیرہ کے باقی دو صحافیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا، جنھیں بھی دستمبر 2013ء میں گریستے کے ہمراہ گرفتار کیا گیا تھا۔

کینیڈا اور مصر سے تعلق رکھنے والے صحافی محمد فہمی بھی سات برس کی قید کاٹ رہے ہیں، جب کہ مصر کے صحافی محمد باعر سے چلے ہوئے کارتوس کا ڈبہ برآمد ہونے کے جرم میں اُنھیں 10 برس قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

الجزیرہ نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں رہائی کا خیرمقدم کیا گیا اور مصر سے باقی دو صحافیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ تینوں کو معافی دی گئی ہے۔

الجزیرہ میڈیا نیٹ ورکس کے قائم مقام ڈائریکٹر جنرل، مصطفیٰ سوق نے گریستے کی گرفتاری کو خود صحافی اور اُن کے اہل خانہ کے لیے ناقابل یقین اور مشکل کی کٹھن گھڑی قرار دیا ہے۔

XS
SM
MD
LG