رسائی کے لنکس

مصر میں کالعدم گروپ سے وابستہ افراد کی گرفتاریاں


اخوان کے ایک سینئر لیڈر اعصام الریان

اخوان کے ایک سینئر لیڈر اعصام الریان

اس ہفتے مصری حکام نے اخوان المسلمین کے تقریبا ستّر ارکان کو گرفتار کر لیا۔ اس طرح گذشتہ دو ہفتوں میں اس کالعدم گروپ کے اڑھائی سو سے زیادہ ارکان گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ گرفتاریوں کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب اس گرو پ نے اگلے مہینے کے پارلیمانی انتخاب میں حصہ لینے کا اعلان کیا۔

سیکورٹی فورسز نے تازہ ترین گرفتاریاں اسکندریہ میں کیں جہاں اخوان المسلمین کے ارکان ایسے پوسٹرز لگا رہے تھے جن پر اللہ اکبر کے الفاظ لکھے ہوئے تھے ۔ مصر کے مذہبی معاشرے میں اس قسم کے پوسٹر لگانا معمولی سی بات ہے لیکن حکومت کے لیے ان کی مذہبی اہمیت کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں تھا۔

مصر کے آئین کے تحت مذہب کی بنیاد پر پارٹیاں قائم کرنا ممنوع ہے لیکن اخوان المسلمین نے اس مشکل کا حل یہ نکالا ہے کہ اس کے ارکان آزاد امید واروں کی حیثیت سے انتخاب میں حصہ لیتے ہیں۔ اخوان کے ایک سینئر لیڈر اعصام الریان قاہرہ کے وسط میں ایک چھوٹے سے آفس سے اپنے امیدواروں کو مدد فراہم کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ”سیاسی نظام کے اصولوں اور ضابطوں کو فوری طور پر بدلنا ہماری اولین ترجیح ہے۔ ہم کسی بھی سیاسی نظام میں رہ کر کام کرنے کو تیار ہیں۔ لیکن آج کل یہاں کوئی سیاسی نظام موجود نہیں ہے ۔ ہم ایک پولیس اسٹیٹ میں رہ رہے ہیں“ ۔

یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ اخوان المسلمین کے اس خیال کی وجہ کیا ہے ۔ ان کے ہیڈکوارٹرز کے باہر سکیورٹی کے ایجنٹوں کی بہت بڑی تعداد موجود ہے جو ہر آنے جانے والے پر کڑی نظر رکھتے ہیں۔ اریان کہتے ہیں کہ ان حالات میں ان کا گروپ موجودہ نظام کے اندر رہتے ہوئے پُر امن طریقے سے تبدیلی لانے کی جدو جہد کر رہا ہے ۔

اگرچہ اخوان المسلمین مصر میں قائم ہوئی تھی اور اس کے لیڈر جیسے سید قطب، شدت پسند مسلمانوں کے ہیرو سمجھے جاتے ہیں، لیکن مصر کی موجودہ پارٹی 1970 کی دہائی میں سیاست میں تشدد کے استعمال سے دستبردار ہو گئی تھی۔ ملک کے اندر حالات تبدیل کرنے کی کوشش کی ایک مثال یہ ہے کہ جب حزبِ اختلاف نے اگلے مہینے کے انتخاب کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تو اخوان نے اس کے خلاف فیصلہ کیا۔

عورتوں کے معاملے میں بھی اس گروپ کا رویہ حقیقت پسندی پر مبنی ہے ۔ اگرچہ مصر میں کچھ لوگ اسے قدامت پسندی کا طعنہ دیتے ہیں اور کچھ اس کی تعریف کرتے ہیں، لیکن اریان کہتے ہیں کہ پارلیمینٹ میں خواتین کے لیے جو نشستیں مخصوص کی گئی ہیں ان پر خواتین امید وار مقابلہ کریں گی اور ایک ایسے ملک میں جہاں عوام کے اظہارِ رائے پر حکومت نے بہت سی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں اخوان المسلمین نے ایسے طریقے اپنائے ہیں جن کی گرفت مشکل ہے۔

میڈیا پبلشر ہشام قاسم حکام کے ہاتھوں خاصی پریشانی اٹھا چکے ہیں”شاید صرف یہی ایک فور س ہے جو پوری طرح منظم ہے کیوں کہ دوسری سیکولر اور قانونی پارٹیوں کو سڑک پر آنے کی اجازت نہیں۔ جیسے ہی وہ اپنا کام شروع کرتی ہیں حکومت کی طرف سے انہیں پریشان کرنا شروع کر دیا جاتا ہے ۔ اخوان المسلمین اپنے کام مسجدوں میں کرتی ہے اور حکومت مسجدوں کو بند نہیں کر سکتی۔ اس لیے دوسری پارٹیوں کے مقابلے میں انہیں کام کرنے کا زیادہ موقع مل جاتا ہے“۔

اخوان کے کام میں ملک کے غریب طبقے کو تعلیمی، سماجی اور طبی امداد شامل ہے۔ اس قسم کے فلاحی کاموں سے لوگوں میں حکومت کے ان دعوؤں کے بارے میں شبہات پیدا ہوتے ہیں کہ اخوان المسلمین انتہا پسند پارٹی ہے جو تباہی اور بربادی پھیلانا چاہتی ہے ۔ لیکن پبلشر قاسم کہتے ہیں کہ اپنی تمام تر مستقل مزاجی کے باوجود، اخوان المسلمین کا اثر محدود ہے ۔ ”آٹھ کروڑ آبادی والے ملک میں ان کے ارکان کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ نہیں۔ اسے آپ عوامی تحریک نہیں کہہ سکتے۔ صرف یہی ایک تحریک ہے جس سڑک پر آنے کی اجازت ہے ۔ لوگ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ اخوان تقریباً82سال سے اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سیاسی پارٹی کی حیثیت سے یہ کوئی شاندار ریکارڈ نہیں ہے“ ۔

کامیابی کے فقدان پر مایوسی کے اظہار کا مظاہرہ اکثر نوجوان ارکان میں دیکھنے میں آتا ہے جو حالیہ مہینوں میں بعض معاملات میں جیسے انتخاب کے بائیکاٹ میں یا اسی قسم کی دوسری سرگرمیوں میں سینئر ارکان کے فیصلوں سے الگ ہوگئے ہیں۔ تا ہم اریان کی نظریں مستقبل پر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جمال عبد الناصر سمیت بہت سے مصری لیڈروں نے اخوان المسلمین کو نام و نشان مٹانے کی کوشش کی ہے لیکن ہم پھر بھی موجود ہیں۔ ناصر اور ناصر ازم یہاں تک کہ سوشلزم اور کمیونزم بھی تاریخ کا حصہ بن گئے ہیں، لیکن اخوا ن المسلمین کی تنظیم اب بھی زندہ ہے، اور مستقبل میں بھی زندہ رہے گی۔

XS
SM
MD
LG