رسائی کے لنکس

مصر میں جھڑپیں تیسرے روز بھی جاری، 33 افراد ہلاک


مصر میں جھڑپیں تیسرے روز بھی جاری، 33 افراد ہلاک

مصر میں جھڑپیں تیسرے روز بھی جاری، 33 افراد ہلاک

مصری حکام نے کہا ہے کہ ملک میں پولیس اور جمہوریت پسند مظاہرین کے مابین تین روز سے جاری جھڑپوں کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 33 ہوگئی ہے۔

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں موجود 'وائس آف امریکہ' کے نمائندے کے مطابق مظاہرین پیر کو مسلسل چوتھے روز بھی شہر کے مرکزی چوک 'تحریر اسکوائر' میں موجود ہیں۔

چوک میں جمع مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا جس کے جواب میں ان پر آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی۔ قاہرہ پولیس 'تحریر اسکوائر' کو مظاہرین سے خالی کرانے کی کوشش کر رہی ہے جس میں تاحال اسے کامیابی نہیں مل پائی۔

دریں اثنا مصری وزارتِ داخلہ کے نزدیک بھی مظاہرین اور پولیس میں جھڑپیں ہوئی ہیں۔ برطانوی خبر رساں ایجنسی 'رائٹرز' نے ایک مصری فوجی عہدیدار کے حوالے سے کہا ہے کہ عمارت میں موجود وزارتِ داخلہ کے حکام نے مشتعل مظاہرین سے بچنے کے لیے فوج سے مدد طلب کرلی ہے۔

مظاہرین مصر پہ حکمران فوجی کونسل کے سربراہ سے اقتدار سول حکومت کو منتقل کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ تین روز سے جاری پرتشدد واقعات میں 1700 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

مصری پولیس اور فوجی دستوں نے اتوار کو مظاہرین پر آنسو گیس کی شیلنگ اور ربڑ کی گولیاں برسا کر 'تحریر اسکوائر' کوخالی کرالیا تھا۔ تاہم مظاہرین کچھ دیر بعد دوبارہ چوک پر قابض ہوگئے جہاں ان کا احتجاج جاری ہے۔

ادھر حکومت مخالف مظاہروں کا سلسلہ قاہرہ سے نکل کر ملک کے دیگر شہروں تک پھیل گیاہے اوراسکندریہ اور سوئز میں بھی بڑے مظاہرے کیے گئے ہیں۔

اس سے قبل اتوار کو مصر کی فوجی حکومت نے ایک ہنگامی اجلاس میں پارلیمانی انتخابات کے انعقاد کا آغاز شیڈول کے مطابق 28 نومبر سے کرانے کا اعلان کیا تھا۔

XS
SM
MD
LG