رسائی کے لنکس

عبوری صدر عدلی منصور نے سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والے اپنے خطاب میں عوام سے کہا تھا کہ آگے بڑھنے کے لیے مصالحت کا عمل ضروری ہے، تاہم اس کے باوجود جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔

مصر کے عبوری صدر کی طرف سے عوام سے پرامن رہنے کی اپیل کے باوجود جھڑپوں کا سلسلہ منگل کو بھی جاری ہے۔

وزارت صحت کے عہدیداروں نے بتایا ہے کہ منگل کو قاہرہ یونیورسٹی میں بر طرف کیے گئے صدر محمد مرسی کے حامیوں کے دھرنے کے قریب ہونے والی جھڑپوں میں کم ازکم چھ افراد ہلاک اور 33 زخمی ہوگئے۔

ان مظاہروں سے چند گھنٹے قبل عبوری صدر عدلی منصور نے سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والے اپنے خطاب میں عوام سے کہا تھا کہ آگے بڑھنے کے لیے مصالحت کا عمل ضروری ہے۔

پیر کو محمد مرسی کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان ہونے والے مظاہروں میں چار افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے تھے۔

سکیورٹی عہدیداروں کے مطابق پیر کو لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب التحریر اسکوائر سے گزرنے والے محمد مرسی حامیوں اور مخالفین نے ایک دوسرے پر پتھراؤ کیا۔

محمد مرسی کی خاندان نے ملک کی فوج پر معزول کیے گئے صدر کے اغواء کا الزام لگایا ہے۔ مرسی کے بیٹے اوسامہ مرسی نے متنبہ کیا ہے کہ وہ اپنے والد کی رہائی کے لیے قانونی چارہ جوئی کریں گے۔

اوسامہ مرسی نے پیر کو قاہرہ میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ تین جولائی کو جب سے اُن کے والد کو برطرف کیا گیا تب سے اُن کے خاندان کے کسی فرد کی ملاقات نہیں ہوئی ہے۔

فوج کا کہنا ہے کہ مرسی کی حفاظت کے لیے اُنھیں تحویل میں رکھا گیا ہے اور اُن کے صحت اچھی ہے۔
XS
SM
MD
LG