رسائی کے لنکس

مصر کا نیا آئین منظور: اخوان المسلمین


متنازع آئینی مسودے پر ملک میں ریفرنڈم کرایا گیا تھا

متنازع آئینی مسودے پر ملک میں ریفرنڈم کرایا گیا تھا

اگر آئندہ چند روز میں نتائج حتمی قرار دے دیے جاتے ہیں تو ملک میں آئندہ دو ماہ کے دوران پارلیمانی انتخابات منعقد کرانا ہوں گے

مصر میں اخوان المسلمین کا کہنا ہے کہ رائے دہندگان نے ملک کے نئے متنازع آئینی مسودے کو منظور کر لیا ہے۔

ملک میں ہونے والے دو روزہ ریفرنڈم میں 64 فیصد ووٹروں نے مسودے کے حق میں رائے دی۔ ریفنڈم کا پہلا مرحلہ 15 دسمبر جب کہ دوسرا 22 دسمبر کو منعقد ہوا تھا جن میں ڈالے گئے ووٹوں کی شرح 32 فیصد رہی۔

اگر آئندہ چند روز میں نتائج حتمی قرار دے دیے جاتے ہیں تو ملک میں آئندہ دو ماہ کے دوران پارلیمانی انتخابات منعقد کرانا ہوں گے۔

صدر محمد مرسی کی سابقہ جماعت اخوان المسلمین نے اس آئینی مسودے کی حمایت کی تھی جب کہ مصر کے آزاد خیال، سیکولر اور عیسائی نمائندے نئے آئین کے مخالف رہے ہیں۔

حزب اختلاف کو خدشہ ہے کہ مجوزہ آئین سے آزادیاں پامال ہوں گی، کیوں کہ اس میں اسلامی قوانین کے عمل دخل کو بڑھا دیا گیا ہے اور خواتین کے حقوق کا ذکر تک نہیں کیا گیا۔

گزشتہ ماہ آئین ساز کمیٹی نے، جس میں اکثریت اسلام پسندوں کی تھی، مجوزہ آئین کی منظوری دی تھی، جب کہ اعتدال پسند اور عیسائی ارکان نے اپنی آواز نظر انداز کیے جانے کی شکایت کرتے ہوئے واک آؤٹ کیا۔
XS
SM
MD
LG