رسائی کے لنکس

ہائی کورٹ کے ججوں نے کھلے عام شکایت کی کہ موجود ہ مسودے میں ان کی غیر جانبداری کو محدود کر دیا گیا ہے ۔

مصر کی ایک عدالت نے اس سوال کا فیصلہ اعلیٰ سطح کے ججوں پر چھوڑ دیا ہے کہ اس گروپ کو جو ملک کے لیے نئے آئین کا مسودہ تیار کرنے کا ذمہ دار ہے، برخاست کیا جائے یا نہیں۔ اس اقدام سے ملک کے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی کی مدت اور طویل ہو جائے گی، لیکن شاید یہ امکان بھی پیدا ہو گیا ہے کہ موجودہ اسمبلی یہ متنازع کام ختم کر لے۔

انقلاب کے بعد کے مصر میں بہت کم مسائل اتنے زیادہ اختلافی رہے ہیں جتنا ملک کا قانونی ڈھانچہ، اور عدالت کے اس فیصلے کا مطلب یہ ہے کہ یہ سلسلہ ابھی کچھ دن اور جاری رہے گا۔

مصر کی اعلیٰ انتظامی عدالت نے منگل کے روز آئین ساز اسمبلی کی قانونی حیثیت کو درپیش چیلنج، ملک کی اعلیٰ ترین آئینی عدالت کے حوالے کر دیے ۔ فوری طور پر یہ نہیں بتایا گیا کہ عدالتِ عظمیٰ اپنا فیصلہ کب سنائے گی۔

سیاسی تجزیہ کار اور ناشر ہشام قاسم کہتے ہیں کہ اس اقدام سے موجودہ اسمبلی کے ارکان کو حالات کے مطابق کچھ ردو بدل کرنے کا موقع مل جائے گا۔ ’’انہیں یقیناً موقع تو ملے گا، لیکن اس سے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی کی کیفیت میں اضافہ ہو گا۔ یہ بات واضح نہیں ہے کہ انتظامی عدالت نے اس معاملے کو آئینی عدالت کے حوالے کرنے میں کیا طریقۂ کار اختیار کیا، اور مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ یہ تاخیری ہتھکنڈے ہیں ۔‘‘

اس اسمبلی کا تقرر اس پارلیمینٹ نے کیا تھا جو بر طرف کی جا چکی ہے۔ اس طرح ان لوگوں کو اپنے حق میں ایک دلیل مل گئی ہے جو اس کے اسلامی کردار کے خلاف ہیں۔ سیکولر خیالات کے لوگ کہتے ہیں کہ نئے بنیادی قانون کے جزوی مسودے سے ان کی تشویش کی تصدیق ہو گئی ہے، خاص طور سے اسلام کے رول کے بارے میں مجوزہ شقیں، عورتوں کی اور غیر عرب مصریوں کی برابری، اور اذیت رسانی کو ممنوع قرار دینے کے بارے میں واضح زبان کا فقدان، اور میڈیا کی آزادی کی اجازت۔

سرگرم سیاسی کارکن وائل خلیل کہتے ہیں کہ صدر محمد مرسی نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے مختلف قسم کے ماہرین اکٹھے کیے ہیں۔

’’تاہم، بہت سے لوگ اب بھی مختلف قسم کے ماہرین کے اس مجموعے سے مطمئن نہیں ہیں۔ آئین کا اصل مسودہ کہیں زیادہ پیچیدہ ہے کیوں کہ اس مرحلے پر بہت سی مختلف طاقتوں کی توجہ اس پر ہے۔ فی الحال، یہ مسودہ مختلف طاقتوں کی خواہشات کی فہرست کی طرح ہے جو اسمبلی میں موجود ہیں۔ یہ بالکل بے ربط، اور تضادات سے پُر ہے۔‘‘

مثال کے طور پر عورتوں کے رول کو لیجیئے۔ مصر کی نیشنل کونسل فار ویمن نے اس مسودے کو مسترد کر دیا ہے، اور جنس کی بنیاد پر امتیازی سلوک کے بارے میں تشویش پر توجہ دلائی ہے۔ اسی طرح عورتوں کے جنسی اعضا کو مسخ کیے جانے، اور کم عمری میں شادی کے رواج کے بارے میں ، یہ مسودہ خاموش ہے۔

اگرچہ اس گروپ نے اسمبلی میں اسلام پسندوں کی بھاری نمائندگی پر تنقید کی ہے، لیکن 100 ارکان کی اس کمیٹی میں، سات میں سے ایک عورت کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ اس سے کہیں زیادہ گہرا ہے۔ منار الشورباگے اسمبلی کی ڈپٹی سیکرٹری جنرل ہیں۔

وہ کہتی ہیں’’یہ اسلام پسند ہونے کا سوال نہیں ہے۔ اصل سوال مرد ہونے کا ہے اور آپ جانتے ہیں کہ اس مسئلے کا تعلق ایسے مردوں سے ہے جو عورتوں کے مسائل اور ان کے توجہ طلب امور کے بارے میں حساس نہیں ہیں۔‘‘

انھوں نے ایسی شقیں تجویز کی ہیں جن میں تعلیم، روزگار اور سیاسی عہدے حاصل کرنے کے بارے میں عورتوں کے حقوق کی ضمانت دی گئی ہو، اور جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے مسئلے پر توجہ دی گئی ہو جو مصر میں عام ہے لیکن اب تک ان کا کوئی نتیجہ بر آمد نہیں ہوا۔

مایوسیوں کے باوجود الشورباگے اب بھی پر اُمید ہیں۔ وہ اس طرف توجہ دلاتی ہیں کہ دوسرے ملکوں کوبھی بنیادی قانون بنانے میں شدید اختلافات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

’’میرے خیال میں اختلافات اور متضاد نقطۂ نظر کو منفی انداز سے نہیں دیکھنا چاہیئے۔ یہ صحت مندانہ رجحان ہے، اور آئین تحریر کرتے وقت ایسا ہونا قدرتی بات ہے۔‘‘

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس اسمبلی کو اتنا وقت ملے گا کہ یہ آئینی عدالت کے فیصلے سے پہلے اتفاق رائے حاصل کر لے۔ آخری مسودہ تحریر کیے جانے کے بعد، اسے ایک مہینے کے اندر عوامی ریفرنڈم کے لیے پیش کر دیا جائے گا۔ اگر یہ مسودہ منظور ہو جاتا ہے، تو اسمبلی کی قانونی حیثیت کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ بے اثر ہو جائے گا۔

عدالت کے کسی نئے فیصلے کے وقت پر کڑی نظر رکھی جائے گی۔ گذشتہ ہفتے، ہائی کورٹ کے ججوں نے کھلے عام شکایت کی کہ موجودہ مسودے میں ان کی غیر جانبداری کو محدود کر دیا گیا ہے۔ اس طرح ایک ایسے طریقۂ کار میں جو پہلے ہی بہت الجھا ہوا ہے، ممکنہ طور پر مفاد میں ٹکراؤ کا عنصر بھی شامل ہو گیا ہے۔
XS
SM
MD
LG