رسائی کے لنکس

عدالتی فیصلے پر تنقید نہیں کی جانی چاہیئے: صدر السیسی


مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی

مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی

مصر کے صدر نے منگل کو ٹیلی ویژن پر اپنے ایک خطاب میں کہا کہ عدالت کے فیصلے کا احترام کیا جانا چاہیئے نا کہ اُس پر تنقید کی جائے۔

مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے کہا ہے کہ وہ عدلیہ کے فیصلے میں مداخلت نہیں کریں گے۔

اُن کے اس بیان سے ایک روز قبل قاہرہ کی ایک عدالت کی طرف سے الجزیرہ ٹیلی ویژن نیٹ ورک کے تین صحافیوں کو کالعدم جماعت اخوان المسلمین کے حمایت میں مبینہ طور پر خبریں نشر کرنے پر سات سات سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

السیسی نے منگل کو ٹیلی ویژن پر اپنے ایک خطاب میں کہا کہ عدالت کے فیصلے کا احترام کیا جانا چاہیئے نا کہ اُس پر تنقید کی جائے۔

آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے پیٹر گیرسٹے، مصری نژاد کنیڈین محمد فہمی اور مصر کے باہیر محمد کو سنائی گئی سزا کے بعد کئی عالمی رہنماؤں اور آزادی صحافت کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کی جانب سے شدید تنقید کی گئی۔

آسڑیلوی وزیراعظم ٹونی ایبٹ نے منگل کو کہا کہ مصر کے عدالتی نظام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے فیصلے کرے لیکن اُن کے ملک کو اس فیصلے پر حیرانی ہوئی۔

پیڑ گیرسٹے کے والد جیورس نے منگل کو صحافیوں کو بتایا کہ اُن کا خاندان صحافیوں کی آزادی تک اپنی جد و جہد جاری رکھے گی۔ اُنھوں نے عدالتی فیصلے کو صحافت کے لیے ’’سیاہ وقت‘‘ قرار دیا۔

’’صحافت جرم نہیں ہے۔۔۔۔ یہ آدمی، پیٹر، جو کہ ایوارڈ یافتہ صحافی ہے۔ مجرم نہیں ہے، مجرم نہیں ہے۔‘‘

امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری نے بھی الجزیرہ کے صحافیوں کو سزائیں سنانے کے فیصلے پر تنقید کی تھی۔ جان کیری نے قاہرہ کی عدالت کی فیصلے سے ایک روز قبل ہی مصر کی قیادت سے ملاقات تھی۔

گزشتہ ہفتے الجزیرہ کے ایک صحافی عبداللہ الشامی کو دس ماہ کی قید کے بعد بغیر فرد جرم عائد کیے ہی رہا کر دیا تھا۔

مصر میں گزشتہ سال جولائی سے صدر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد سے فوج کی طرف سے اُن کی جماعت اخوان المسلمین کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔
XS
SM
MD
LG