رسائی کے لنکس

مصر نے بحران کے حل کے لیے درکار ٹھوس اقدامات نہیں کیے: امریکہ


مصر نے بحران کے حل کے لیے درکار ٹھوس اقدامات نہیں کیے: امریکہ

مصر نے بحران کے حل کے لیے درکار ٹھوس اقدامات نہیں کیے: امریکہ

گبِز نے کہا کہ عبوری دور کو ذہن میں رکھتےہوئے ٹھوس اقدامات اور براہِ راست مذاکرات کا راستہ کھولے بغیر ملکی صورتِ حال میں بے چینی کے عنصر میں مزیداضافہ ہوگا

اوباما انتظامیہ نے کہا ہے کہ مصر ی حکومت نےملک کے سیاسی بحران کو حل کرنے کے لیے درکار ٹھوس اقدامات نہیں کیے ۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان رابرٹ گِبز نے جمعے کے دِن کہا کہ ضرورت اِس بات کی ہے کہ صدر حسنی مبارک حکومت سے باہر افراد کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کے لیے ‘حقیقی اور جائز’ کوششیں کریں۔ گبِز نے کہا کہ عبوری دور کو ذہن میں رکھتےہوئے ٹھوس اقدامات اور براہِ راست مذاکرات کا راستہ کھولے بغیر ملکی صورتِ حال میں بے چینی کے عنصر میں مزیداضافہ ہوگا۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی حکومت اور مصری عہدے دار مسٹر مبارک کے فوری استعفیٰ سے متعلق ایک تجویز کے بارے میں مذاکرات کرنے والے ہیں اور مصری فوج کی حمایت کے ساتھ عبوری حکومت کی سربراہی نائب صدر عمر سلیمان کے حوالے کرنے کا سوچ رہے ہیں۔

گِبز نے کہا کہ اِس بحران کا حل صرف مصری عوام کے پاس ہے اور امریکہ اِسے طے نہیں کرسکتا۔
وائٹ ہاؤس نےانٹیلی جنس کمیونٹی کا دفاع کیا جس سے متعلق ناقدین کا کہنا تھا کہ اُس نے مشرقِ وسطیٰ میں جنم لینے والی بے چینی کے بارے میں امریکی صدر باراک اوباما کو بروقت خبردار نہیں کیا ۔ گِبز نے کہا کہ خطے کی صورتِ حال پرصدر اوباما کو بالکل درست اور بروقت اطلاعات مہیا کی گئی تھیں۔

امریکی محکمہٴ خارجہ کے ایک اعلیٰ عہدے دار کا کہنا ہے کہ منظر نامہ جس پر سنجیدگی سے گفتگو جاری ہے کچھ یوں اُبھر کر سامنے آرہا ہے کہ دست بردار ہونے کے بعد مسٹر مبارک شرم الشیخ کے ایک گھر میں رہائش اختیار کریں گے۔

مسٹر مبارک نے حال ہی میں کہا تھا کہ وہ ملک بدر نہیں ہونا چاہتے اور مصری سرزمین پر دم توڑنے کے خواہاں ہیں۔
امریکی عہدے دار جنھوں نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بات کی، بتایا ہے کہ مصر کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں یہ تجویز بھی زیرِ غور ہے کہ عبوری حکومت میں مخالف گروہوں کے ارکان کو مدعو کرنا شامل ہے جس میں کلعدم اخوان المسلمین بھی شامل ہے، تاکہ ملک میں انتخابی عمل کا آغاز ہو اور ستمبر میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کرائے جائیں۔

جمعے کو امریکی ٹیلی ویژن ‘اے بی سی’ کےایک پروگرام میں امریکی فوج کے اعلیٰ افسر ایڈمرل مائیک ملن نے متنبہ کیا کہ مصر کو سالانہ 1.3بلین ڈالر کی ملنے والی امریکی امداد پر کسی قسم کی کوئی کٹوتی نہیں لگنی چاہیئے۔

ملن نے یہ بھی کہا کہ اُن کو اُن کے مصری ہم منصب نے یقین دلایا ہے کہ فوج مظاہرین پر فائر نہیں کھولے گی۔

جمعرات دیر گئے امریکی سینیٹ نے ایک قرارداد منظور کرتے ہوئے صدر مبارک سے مطالبہ کیا ہےکہ ایک جمہوری سیاسی نظام کے حصول کے لیے فوری طور پر ایک پُر امن عبوری دور کی ابتدا کی جائے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ عبوری دور میں اپوزیشن، سول سوسائٹی اور فوج کے صلاح و مشورے سے اقتدار ایک عبوری حکومت کے حوالے کرنا شامل ہے، تاکہ اِسی سال آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کرانے کے لیے ضروری اصلاحات عمل میں لائی جاسکیں۔

قرارداد کو ری پبلیکن پارٹی کے جان مکین اور ڈیموکریٹ پارٹی کے جان کیری نے مشترکہ طور پر پیش کیا تھا، جِس میں کسی انتہا پسند نظریے کی کسی تنظیم جس میں اخوان المسلمین شامل ہے کےلیے‘ گہری تشویش ’ کا اظہار کیا گیا ہے۔ قرارداد میں مصر کی تمام سیاسی تحریکوں اور جماعتوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ عدم تشدد، قانون کی حکمرانی اور جمہوریت کے بنیادی اصولوں اور عمل کے بارے میں اپنے عزم کا اعادہ کریں۔
قرارداد میں مصری فوج پر زور دیا گیا ہے کہ اُس کی طرف سے پیشہ ورانہ رویے اور برداشت کا مظاہرہ ہونا چاہیئے۔

XS
SM
MD
LG