رسائی کے لنکس

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کا قرض مصر کے لیے بہت اہم ہے کیوں کہ اس سے دوسرے غیر ملکی قرضوں اور سرمایہ کاروں کے لیے راستہ کھل جائے گا ۔

مصر کی اقتصادی حالت مسلسل خراب ہو رہی ہے۔ سیاسی خلفشار اور بے چینی سے بھی حالات کے بہتر ہونے میں رکاوٹ پڑ ی ہے ۔ حکومت نے اصلاحات کا ایک پیکیج تجویز کیا ہے جس کے ذریعے اسے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے قرض لینے میں آسانی ہوگی جس کی اسے شدید ضرورت ہے ۔

قاہرہ میں پیٹرول پمپوں کے سامنے گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاروں سے اندازہ ہوتا ہے کہ انقلاب کے بعد مصر میں ڈیزل کی شدید قلت ہو گئی ہے۔
عام استعمال کی چیزوں کی قلت ہو، یا ان چیزوں کی آسمان سے باتیں کرتی ہوئی قیمتیں، عام مصریوں کے لیے روز مرہ زندگی کے مسائل روز بروز مشکل ہوتے جا رہےہیں۔

عام اقتصادی حالات بھی مایوس کن ہیں ۔ زرِ مبادلہ کے ذخائر بہت کم رہ گئے ہیں، اور کچھ لوگ تو ملک کے دیوالیہ ہونے کی بات کر رہے ہیں۔
قاہرہ میں الاہرام سینٹر کے ماہرِ معاشیات مجید صوبحے یوسف کہتے ہیں کہ اگر حالات ایسے ہی رہے جیسے اب ہیں، تو آنے والے مہینوں میں صورتِ حال اور زیادہ خراب ہو جائے گی اور مصر کو مکمل طور سے غیر ملکی امداد پر انحصار کرنا پڑے گا۔

2011 میں پرانی حکومت کا تختہ الٹے جانے کے بعد سے، مصر بہت برے چکر میں پھنس گیا ہے ۔ خراب معیشت کی وجہ سے سیاسی بے چینی پیدا ہوتی ہے، اور پھر سیاسی بے چینی کے نتیجے میں معیشت کی حالت اور زیادہ خراب ہو جاتی ہے۔

عدم استحکام کی وجہ سے غیر ملکی سرمایہ کار پیسہ لگانے سے گھبراتے ہیں، اور ٹورسٹ بھی نہیں آتے جو آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ ہیں ۔ تحریر اسکوائر میں ایک ٹریول ایجنٹ کو یہ پریشانی ہے کہ آئندہ کیا ہوگا ۔ وہ کہتے ہیں’’کچھ پتہ نہیں کہ حالات کیا ہوں گے اور ہم سب کا مستقبل کیا ہوگا ۔ میں تو ٹورزم میں کام کرتا ہوں اور اس کاروبار میں تو حالات بہت خراب ہیں ۔ مجھے سخت نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے ۔‘‘

ملک میں دوسرے لوگوں کی حالات بھی خراب ہے ۔ سیاست میں سرگرم اور با اثر بلاگر وائل خلیل کہتے ہیں کہ حکومت کو جلد کچھ کرنا چاہیئے ۔ ’’بےچینی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ بہت سے لوگ بے روزگار ہیں اور انہیں کوئی نوکری نہیں ملتی ۔ جن کے پاس کوئی جاب ہے بھی، وہ بھی خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں کیوں کہ معلوم نہیں کب انہیں جواب مل جائے۔‘‘

اب تک حکومت کوئی ایسا اقدام نہیں کر سکی ہے جس سے عام لوگ مطمئن ہو جائیں۔

لیکن اس ہفتے سرکاری عہدے داروں نے بتایا کہ انھوں نے اتفاقِ رائے سے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے قرض لینے کا ایک منصوبہ تیار کر لیا ہے ۔ تا ہم اس منصوبے کی بہت کم تفصیلات فراہم کی گئی ہیں، اور مزید بات چیت کے لیے کوئی تاریخ مقرر نہیں کی گئی ہے۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کا قرض مصر کے لیے بہت اہم ہے کیوں کہ اس سے دوسرے غیر ملکی قرضوں اور سرمایہ کاروں کے لیے راستہ کھل جائے گا ۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس قرض کی شرائط پوری کرنے کے لیے حکومت کو اپنے خراجات کم کرنے کے اقدامات کرنے ہوں گے، اور اگر ماضی پر نظر ڈالی جائے، تو جب کبھی حکومت نے اخراجات کم کرنے کے لیے کچھ پروگراموں میں کٹوتی کی ہے، اس کے خلاف مزید احتجاج شروع ہو جاتے ہیں۔

ماہرِ معاشیات یوسف کی پریشانی یہ ہے کہ حکومت کے پاس اقتصادی حالت درست کرنے کے لیے کوئی ٹھوس منصوبہ نہیں ہے ۔ وہ کہتےہیں کہ حکومت کا خیال یہ ہے کہ خدا کی خوشنودی حاصل کرنے سے سارے مسائل حل ہو جائیں گے۔ معجزوں کی توقع کرنا اچھی سیاست نہیں ۔ اب جب کہ مصر اقتصادی تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے، تجزیہ کار کہتےہیں کہ یہ بری اقتصادی پالیسی بھی ہے۔
XS
SM
MD
LG