رسائی کے لنکس

حکومتِ مصرمجھے بدنام کرنے کی مہم چلارہی ہے: البرادعی کا الزام


محمد البرادعی

محمد البرادعی

جوہری توانائی کےبین الاقوامی ادارے کے سابق سربراہ اور مصری جمہوریت کے نمایاں چیمپین، محمد البرادعی نے صدر حسنی مبارک کی حکومت پر الزام لگایا ہے کہ اُن کی بیٹی کی تیراکی کے لباس اور تقاریب میں شراب پیش کرنے کی تصاویر کو انٹرنیٹ پر چھاپ کراُن کوبدنام کرنے کی سیاسی مہم چلائی جارہی ہے۔

البرادعی نے مصر کے آزاد اخبار‘ الدستور ’کو بتایا کہ حکومت سراسرجھوٹ پر مبنی مہم چلا رہی ہے۔

نوبیل انعام یافتہ، جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے کے سابق سربراہ نے ہفتے کے دِن اخبار کو بتایا کہ حکومت جمہوریت اور سیاسی اصلاح کے مطالبوں کا اِس طریقےسےجواب دے رہی ہے۔

حکمراں جماعت کے عہدے داروں نے ویب سائٹ پر لیلی البرادعی کو ہدف بنائے جانے میں کسی طرح کا کردار ادا کرنے کی تردید کی ہے۔ نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے ترجمان، علی الدین ہلال نے تصاویر کے شائع ہونے کو شرمناک قرار دیا ہے۔

اُن کے والد نےانتخابی اصلاحات اور آئینی ترامیم کےلیے مہم چلا کر مصری حکومت کو ناراض کیا ہے، جِن کی رو سے معتبر آزاد امیدوار اگلے برس ہونے والے صدارتی انتخاب میں حکمراں جماعت کو چیلنج کر سیکں گے۔

گذشتہ ہفتے‘فیس بک ’ استعمال کرنے والے کسی شخص نے ‘البرادعی خاندان کے راز’ کے عنوان سے ایک صفحہ شائع کیا ہے۔ اِس صفحے پر 30فوٹو چھاپے گئے ہیں جنھیں کچھ مصری اخبارات نے شائع کیا ہے جِن میں لیلی البرادعی کو تیراکی کے لباس پہنےکسی ساحل پر، اورایسے موقعوں پر دکھایا گیا ہےجہاں شراب کے گلاس نظر آرہے ہیں۔

فیس بک سائٹ میں یہ بھی درج ہے کہ البرادعی کی بیٹی ایک عیسائی سے بیاہی ہوئی ہیں، اوراُسی سماجی نیٹ ورکنگ سائٹ سے لیا گیا ایک عکس دکھایا گیا ہے جسے اُن کا اصل سوانحی خاکہ قراد دیا گیا ہے، اور اُنھیں دین مخالف خیالات کی حامی قرار دیا گیا ہے۔

لیلی البرادعی نے ایک یورپی سرمایہ کاربینکر سے شادی کی ہوئی ہے۔ یہ جوڑا لندن میں رہائش پذیر ہے۔

XS
SM
MD
LG