رسائی کے لنکس

عبوری حکومت کا کہنا ہے کہ بدھ کو مصر میں 278 افراد، جن میں 43 پولیس والے شامل ہیں، ہلاک ہوئے

بین الاقوامی خبر رساں اداروں نےبتایا ہے کہ مصر کے نائب صدر اور اصلاحات کے حامی راہنما، محمد البرداعی نے بدھ کے روز قاہرہ میں سکیورٹی اہل کاروں کی طرف سے احتجاجی مظاہرین کے خلاف تشدد آمیز کارروائی کے خلاف احتجاج کے طور پر اپنا استعفیٰ پیش کردیا ہے۔

ایسو سی ایٹڈ پریس نے قاہرہ سے رپورٹ میں بتایا ہے کہ البرداعی نے اپنا استعفیٰ عبوری صدر عدلی منصور کے نام ایک مراسلے میں پیش کیا ہے، جس کی ایک کاپی ’اے پی‘ کو موصول ہوئی ہے۔

اُنھوں نے کہا ہے کہ وہ ’خون کا ایک قطرہ‘ بہنے کی ذمہ داری لینے کے لیے تیار نہیں، اور متنبہ کیا کہ تشدد کے نتیجے میں مزید تشدد جنم لے گا، اور یہ کہ عہدہ سنبھالنے کے وقت کے مقابلے میں ملک کی آج کی صورت حال کہیں زیادہ کشیدہ ہے۔

گذشتہ ماہ، منصور نے البرداعی کو معاون برائے امور خارجہ تعینات کیا تھا۔

ادھر، ’رائٹرز‘ کی ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ البرداعی نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ جو کچھ آج ہوا اُس کا فائدہ صرف اُنہی کو ہوگا جو تشدد، دہشت گردی اور انتہائی شدت پسند گروہوں کی راہ اپنائے ہوئے ہیں۔

اُن کے بقول، جیسا کہ آپ کو علم ہے، میرے نزدیک معاشرے سے جھگڑے کی راہ سے ہٹنے کے بہت سے پُرامن طریقے موجود تھے، اس سلسلے میں ابتدا کرنے کے لیے مجوزہ اور قابل قبول راہ موجود تھی، جس کے نتیجے میں ہم قومی اتفاق رائے تک پہنچ سکتے تھے۔

ادھر، مصر کی وزارت صحت نے بتایا ہے کہ قاہرہ اور ملک کے دیگر علاقوں میں چھڑنے والے بلوؤں میں اب تک ہلاک ہونے والوں کی تعداد 149بتائی ہے۔

برطرف کیے گئے محمد مرسی کی اخوان المسلمین نے کہا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد اِن سے کہیں زیادہ ہے، جسے پارٹی نے ’قتل عام‘ قرار دیا ہے۔
XS
SM
MD
LG