رسائی کے لنکس

مصرکا مستقبل ماضی کا عکاس


مصرکا مستقبل ماضی کا عکاس

مصرکا مستقبل ماضی کا عکاس

خیال ہے کہ مصر کے پارلیمانی انتخابات میں جو ایک مہینے تک جاری رہیں گے، اخوان المسلمین کو ابتدائی مرحلے میں سبقت حاصل ہو گئی ہے ۔ لیکن اس اعتدال پسند اسلامی گروپ کو، نیز اس سے زیادہ قدامت پسند گروپوں کو جو حمایت حاصل ہو رہی ہے ، اس سے مصر کے مستقبل کے مقابلے میں اس کے ماضی کی زیادہ عکاسی ہوتی ہے ۔

خالص عملی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے ، تو اخوان المسلمین کوانتخابات کے ٹائم ٹیبل سے فائدہ پہنچنا ہی تھا ۔ یہ وہ گروپ ہے جس پر سرکاری طور پر پابندی لگی ہوئی تھی، لیکن حکومت کے مخالف گروپوں میں یہ سب سے زیادہ اچھی طرح منظم تھا ۔ اس کا مقابلہ کرنے والے دوسرے گروپ ابھی تشکیل کے مراحل میں ہیں اور اخوان کی گرد کو بھی نہیں پہنچ سکتے ۔ شاید اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ اخوان کے ارکان نے ماضی میں اندھادھند گرفتاریوں، قید و بند اور اذیتوں کی سختیاں برداشت کی ہیں۔

مصر کی ہیومن رائٹس واچ کی محقق حبہ مورایف کہتی ہیں کہ نجی طور پر اور کھلے عام دونوں طرح، سابق حکومت کے ہتھکنڈوں کی مخالفت میں، اخوان المسلمین کے ارکان پیش پیش تھے ۔’’انھوں نے انسانی حقوق کے بہت سے مسائل کو اٹھایا اور انھوں نے ان مظالم کا شکار ہونے والوں کی حیثیت سے، دوسرے لوگوں کو اپنے ساتھ ملالیا جنہیں ان کے ساتھ ہمدردی تھی اور جو مبارک کی آمرانہ حکومت سے ناراض تھے ۔‘‘

مورایف کہتی ہیں کہ اخوان، مبارک کے دور کے بے تحاشا کرپشن پر تنقید کرتے رہتے تھے، اور انھوں نے بہت سے فلاحی کام بھی کیے ۔ ایک ایسے ملک میں جہاں ہر تین افراد میں سے ایک غربت کا شکار ہے، یہ کام بہت اہم ہے اور اس کی وجہ سے اخوان کو عوامی سطح پر بہت مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔

اس گروپ کا نعرہ کہ تمام مسائل کا حل اسلام میں ہے، مصر کے مذہبی معاشرے میں بہت مقبول ہے ۔ لیکن سیاسی مبصرین کہتے ہیں کہ اخوان المسلمین کا ایک اعتدال پسند روپ بھی ہے جو مصر کے عملیت پسندوں کے لیے پُر کشش ہے ۔ اخوان کی اعتدال پسندی، ایک اور اسلامی گروپ کے رویے سے بہت مختلف ہے جو مبارک کے دور کے بعد ، اس پہلے انتخاب میں اپنی موجودگی کا احساس دلا رہا ہے ۔ یہ بنیاد پرست سلفیوں کا گروپ ہے ۔

مورایف کہتی ہیں’’جہاں تک سلفیوں کا تعلق ہے، ان کی حالت اخوان سے کہیں زیادہ خراب تھی۔ وہ سیاسی گروپ کی حیثیت سے کام کر ہی نہیں کر سکتے تھے ۔2011 میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ سلفیوں نے خود کو سیاسی پارٹیوں کی شکل میں خود کو منظم کیا ہے، اور ان کا نام میڈیا میں نظر آنے لگا ہے ۔ اب تک سلفیوں نے خود کو چھپا رکھا تھا اور وہ صرف فلاحی کام کر رہے تھے۔‘‘

لیکن ان دونوں گروپوں کو بظاہر جو کامیابی ملی ہے اس کے باوجود، سیاسی تجزیہ کار اور پبلشر حشام قاسم کہتے ہیں کہ ان دونوں گروپوں میں سے کسی کو بھی سیاسی حکمت عملی کا کوئی خاص تجربہ نہیں ہے اور یہ کہنا مشکل ہے کہ مستقبل میں ان کی کارکردگی کیسی رہے گی ۔

’’اخوان المسلمین کے بارے میں تو میں گھنٹوں بات کر سکتا ہوں اور آپ کو بتا سکتا ہوں کہ وہ کیا غلطیاں کرتے رہےہیں اور میرے خیال میں ، وہ پھر یہی کچھ کریں گے ۔ لیکن ان کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ بیشتر سیاسی طاقتیں ان پر اعتبار نہیں کرتیں۔‘‘

وہ کہتے ہیں کہ اخوان المسلمین جن لوگوں کے ساتھ اتحاد کرنا چاہتے ہیں، ان سے لمبے چوڑے وعدے تو کر لیتے ہیں،لیکن جب ان کے ہاتھ مضبوط ہو جاتے ہیں، تو وعدے پورے نہیں کرتے ۔ سلفیوں کا مسئلہ دوسرا ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ یہ کٹر اسلامی گروپ جمہوریت کی زبان استعمال کر کے، کچھ لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کر لے، لیکن مصریوں کے اکثریت کے لیے ان کا اصل پیغام قابلِ اعتراض ہوگا۔

قاسم کہتے ہیں’’وہ خود کو حالات کے مطابق ڈھال لیتے ہیں لیکن جیسے ہی صورتِ حال بدلتی ہے تو آپ کے کان میں یہ آواز آئے گی کہ ہم شہادت کے لیے تیار ہیں، اور پھر وہ اپنے اصلی روپ میں واپس چلے جاتے ہیں۔ ان کا رویہ بڑا جارحانہ ہے، وہ زمین پر خود کو اللہ کا جانشین سمجھتے ہیں، اور ان میں کوئی نظم و ضبط اور کوئی مرکزی کمان نہیں ۔ ایک اندازے کے مطابق، 8 کروڑ کے اس ملک میں، ان کی تعداد پندرہ لاکھ ہے ۔‘‘

انسانی حقوق کی محقق مورایف کہتی ہیں کہ ان کا اصل امتحان اس وقت ہو گا جب نئی حکومت کی تشکیل ہو گی، اور ان دونوں گروپوں کو ملک کے چلانے کی ذمہ داریاں سنبھالنی ہوں گی۔’’ہمیں دیکھنا ہوگا کہ وہ اخوان المسلمین پارلیمینٹ میں اپنے عہدے کے پہلی مدت میں کیا کرتے ہیں۔ پالیسی کے اہم مسائل سے وہ کیسے نمٹتے ہیں جن سے پہلے کبھی ان کا واسطہ نہیں پڑا۔ اب تک وہ صرف مبارک حکومت کے ظالمانہ ہتھکنڈوں پر تنقید کرتے رہےہیں۔ اب وہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔‘‘

وہ کہتی ہیں کہ صرف اسی وقت یہ پتہ چلے گا کہ کیا لوگوں نے اخوان اور سلفیوں کے مذہبی عقائد پر آنکھیں بند کرکے اعتبار کر لیا تھا، یا ان کی حمایت کی بنیاد یہ امید تھی کہ یہ گروپ صحیح معنوں میں تبدیلی لائیں گے ۔

XS
SM
MD
LG