رسائی کے لنکس

مصر میں پارلیمانی انتخابات کی تیاریاں

  • حسن خواجہ

مصر میں پارلیمانی انتخابات کی تیاریاں

مصر میں پارلیمانی انتخابات کی تیاریاں

مصر میں پارلیمانی انتخاب کی ووٹنگ کے پہلے راؤنڈ میں اب بہت کم وقت باقی ہے اور سیکورٹی فورسز کی طرف سے حزب اختلاف کے ارکان کے خلاف کارروائیوں کے واقعات میں اضافہ ہو گیا ہے ۔

مصر میں پارلیمانی انتخاب کی ووٹنگ کے پہلے راؤنڈ میں اب بہت کم وقت باقی ہے اور سیکورٹی فورسز کی طرف سے حزب اختلاف کے ارکان کے خلاف کارروائیوں کے واقعات میں اضافہ ہو گیا ہے ۔ اخوان المسلمین کے ارکان پر خاص طور پر سختی کی جا رہی ہے ۔ مصر کے دوسرے سب سے بڑے شہر اسکندریہ میں انتظامی عدالت نے حکم دیا ہے کہ وہاں بیشتر انتخابات معطل کر دیے جائیں ۔ یہ حکم اس وقت دیا گیا جب عدالت کے پہلے جاری کیئے جانے والے اس حکم کو کہ جن امیدواروں کو نااہل قرار دیا گیا ہے، انہیں بحال کر دیا جائے، نظر انداز کر دیا گیا۔

بشریٰ السمانی کے چہرے سے محبت اور شفقت کا تاثر ملتا ہے ۔ آپ ان سے ملیں تو پتہ چلے گا کہ ان میں بلا کا صبر ہے جو برسوں تک بچوں کو پڑھانے سے آتا ہے اور ان میں یہ عزم بھی موجودہے کہ وہ اسکندریہ کے حلقے سے پارلیمینٹ کی رکن منتخب ہو سکتی ہیں۔ لیکن ووٹروں کو یہ پتہ چلانا مشکل ہوگا کیوں کہ ان کی انتخابی مہم کے تمام پوسٹرز پھاڑ دیے گئے ہیں۔ عام خیال یہ ہےکہ یہ حرکت سادہ کپڑوں میں ملبوس پولیس والوں کی ہے جو اٖخوان المسلمین سے تعلق رکھنے والے تمام آزاد امیدواروں کے اشتہار تباہ کر دیتے ہیں۔

السمانی قانونی طور پر رجسٹرڈ امید وار ہیں اور انتخابی مہم چلانا ان کا آئینی حق ہے۔ لیکن وہ اس شہر میں چوری چھپے آتی ہیں۔ ان کے ایک حامی کے ہاتھ میں میگا فون ہے اور جب مزدور فیکڑی سے باہر نکلتے ہیں ، تو وہ انہیں بتاتا ہے کہ بیلٹ پیپر پر ان کا نام کیسے پہچاناجائے ۔ ایک ایسے ملک میں جہاں ہر تین میں سے صرف ایک آدمی پڑھنا جانتا ہے، یہ نکتہ بہت اہم ہے ۔

السمانی بتاتی ہیں کہ وہ عورتوں کے حقوق، تعلیم اور علاج معالجے کی سہولتوں کے لیئے جدو جہد کریں گی۔ وہ صرف چند منٹ ہی وہاں ٹھیرتی ہیں کیوں کہ سیکورٹی فورسز کے آدمی جلد ہی وہاں پہنچ جاتے ہیں اور اس طرح یہ سفری انتخابی مہم آگے بڑھ جاتی ہے۔

السمانی کا خیال ہے کہ وہ خوش قسمت ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ چند روز پہلے اسکندریہ کے نزدیک، سیکورٹی فورسز نے انتخابی مہم کے جلسوں کو منتشر کر دیا ۔ انھوں نے بعض لوگوں کو مارا پیٹا اور انہیں زخمی کر دیا اور کچھ کو جیل میں ڈال دیا۔

اسی روز، قاہرہ میں اخوان المسلمین کے ایک سینیئر رکن سعد کاتنتی نے ایک نیوز کانفرنس میں حکومت کے ظلم و ستم کی مذمت کی۔ اس کے چند گھنٹے بعد ہی، جب وہ اپنی گاڑی میں گھر واپس جا رہے تھے، چند لوگوں نے جن کے پاس زنجیریں اور چاقو تھے ان کی گاڑی پر حملہ کیا۔ ان کا ڈرائیور زخمی ہو گیا اور انھوں نے بھاگ کر اپنی جان بچائی۔

بدھ کے روزہیومن رائٹس واچ نے ایک رپورٹ جاری کی جس میں کہا گیا ہے کہ اتوار کی ووٹنگ سے پہلے، گذشتہ چند ہفتوں میں مصر میں بڑے پیمانے پر اندھا دھند گرفتاریاں ہوئی ہیں اور حکومت کے مخالف امیدواروں کو خوفزدہ کیا گیا ہے ۔ اس گروپ نے کہا ہے کہ سیکورٹی فورسز نے اخوان المسلمین کے سینکڑوں ارکان کو گرفتار کر لیا ہے۔ ان میں سے بیشتر لوگ اشتہار بانٹ رہے تھے یا پوسٹرز لگا رہے تھے ۔ اخوان المسلمین کی رکنیت غیر قانونی نہیں ہے ، لیکن مذہبی پارٹی ہونے کی وجہ سے، آئین کے تحت یہ سیاسی پارٹی کے طور پر کام نہیں کر سکتی۔ اس کے ارکان آزاد امیدواروں کی حیثیت سے انتخاب لڑتے ہیں۔

حکمراں نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے ترجمان، عبد الحی نے انسانی حقوق کی تنظیم واچ کی رپورٹ کو سرا سر افترا پروازی قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ وہ سڑک پر موجود ہیں اور کہہ سکتےہیں کہ یہ رپورٹ بہتان تراشی کے سوا کچھ اور نہیں۔

حکومت نے بار بار کہا ہے کہ ووٹروں کو حکمران نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی اور اخوان المسلمین کے انتہا پسندوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہے ۔ بلکہ آج کے بہت سے دہشت گرد اسلامی گروپ، گذشتہ صدی کے مصری اسلام پسندوں سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔

وائس آف امریکہ کے ایک پروگرام میں مصر میں سابق امریکی سفیر ایڈورڈ والکرنے مصر کی اخوان المسلمین اور حماس کا موازنہ کیا۔ اخوان نے کئی عشرے پہلے انتہا پسندی کو خیر باد کہہ دیا تھا ۔

اخوان المسلمین کے بارے میں انھوں نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ انھوں نے جمہوریت سے اپنی وابستگی کا مظاہرہ کیا ہے ۔ اگر ہم اس کی مثال دیکھنا چاہتے ہیں تو غزہ کو ایک لیباریٹری سمجھنا چاہیئے ۔ اگر اخوان المسلمین کو مصر جیسے ملک میں اکثریت مل گئی تو وہاں بھی وہی کچھ ہوگا جو غزہ میں ہو رہا ہے۔

تا ہم اخوان المسلمین مصر کی سماجی زندگی کا حصہ بننے کی پوری کوشش کرتی ہے ۔وہ مصر میں علاج اور تعلیم کی سہولتیں، اور ضرورت مندوں کو غذا فراہم کرتی ہیے۔ اس نے غیر مسلموں کی بھی مدد کی ہے۔ حال ہی میں، اس نے مصر کے عیسائیوں کو عراقی دہشت گردوں کے خطرےسے بچانے کے اقدامات کیئے ہیں۔

اخوان المسلمین نے ان لوگوں کی بھی مدد کی ہے جو حکومت کی سیکورٹی فورسز کی زیادتیوں کا نشانہ بنتے ہیں۔ یہ ان گروپوں میں شامل ہے جو یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ احمد شعبان پر کیا گذری ۔ اسکندریہ کے اس نوجوان کو اس مہینے کے شروع میں سیکورٹی کے لوگوں نے پکڑا تھا اور پھر وہ مردہ پایا گیا۔ یہی پولیس اسٹیشن جون میں ایک اور نوجوان کے ہلاکت میں ملوث ہے ۔

السمانی کہتی ہیں کہ اس قسم کے واقعات سے حکومت کی یہ دلیل بے معنی ہو جاتی ہے کہ لوگوں کو اخوان المسلمین جیسے گروپ سے خوف کھانا چاہیئے ۔ وہ پوچھتی ہیں کہ جب سیکورٹی فورسز لوگوں کو مارتی پیٹتی ہیں، تو پھر دہشت گرد کون ہے؟ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ہم نے کوئی غلط کام کیا ہے، تو وہ سامنے آئے اور ہمیں بتائے۔

XS
SM
MD
LG