رسائی کے لنکس

مصر: پرانی حکومت کودوبارہ لانے کی کوئی کوشش نہیں ہوگی


احمد شفیق

احمد شفیق

’ پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا جائے گا، اور نہ ہی پرانی حکومت دوبارہ تشکیل ہوگی۔ ہم آپس میں لڑیں گے نہیں بلکہ مل کر کام کریں گے۔ مصر تبدیل ہوچکا ہے۔ بیتا ہوا وقت واپس نہیں آتا۔ ہم نے ایک شاندار انقلاب کو ہوتے ہوئے دیکھا‘

مصر کے صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے امیدواروں نے ہفتے کو ایک دوسرے سے رابطہ کیا اوراگلے ماہ ہونے والے الیکشن کے دوسرے مرحلے میں کامیابی کی صورت میں ایک نئےمصر کی تعمیر کے لیے اپنے نصب العین کو بیان کیا۔
مصر کےصدارتی امیدوار احمد شفیق نے اُس ’شاندار‘ انقلاب کی تعریف کی جس میں صدرحسنی مبارک کو اقتدار سےہٹایا گیا، اور اِس بات کا عہد کیا کہ منتخب ہونے پر پرانی حکومت کو پھر سےتشکیل دینےکی کوئی کوشش نہیں ہوگی۔

ہفتے کو اپنی انتخابی مہم کے صدر دفتر میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شفیق نے مصر کےعوام میں اتحاد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نئی حکومت میں نہ کسی پر بندش ہوگی اور نہ ہی کسی کو دور رکھا جائے گا۔

اُن کے بقول، مصر سب کا ہے۔ نہ کسی کو الگ تھلگ کیا جائے گا، نہ ہی کسی کو دھکیلا جائے گا۔ اس ملک میں سب حصے دار ہیں۔

اُنھوں نے مصر کےتمام باسیوں سےیہ عہد کیا کہ پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا جائے گا، اور نہ ہی پرانی حکومت کو دوبارہ تشکیل دیا جائے گا۔ ہم آپس میں لڑیں گے نہیں بلکہ مل کر کام کریں گے۔ مصر تبدیل ہوچکا ہے۔ بیتا ہوا وقت واپس نہیں آتا۔ ہم نے ایک شاندار انقلاب کو ہوتے ہوئے دیکھا۔

شفیق، جو کہ سیکولر خیالات کے حامی ہیں، کا یہ بیان ایسےوقت سامنے آیا ہے جب بظاہر وہ انتخابات کے دوسرے مرحلے میں اخوان المسلمین کے امیدوار محمد مرسی کا مقابلہ کریں گے۔

بدھ اور جمعرات کو جاری کیے جانے والے صدارتی انتخاب کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق مرسی کو سب سے زیادہ ووٹ پڑے ہیں جب کہ شفیق اُن سے کچھ ہی پیچھے ہیں۔

سابق امریکی صدر جمی کارٹر نے، جن کا’ کارٹر سینٹر‘ اُن متعدد گروپوں میں سے ایک ہے جس نے آزادانہ طور پر الیکشن کی نگرانی کی، ہفتے کے روز کہا کہ بظاہر ووٹنگ کا عمل منصفانہ تھا۔ لیکن اُنھوں نے کہا کہ حکام کی طرف سے جائزہ کاروں کو کچھ پولنگ اسٹیشنوں کے اندر داخل ہونے کی اجازت نہ دے کر ’پورے عمل کی مجموعی شفافیت کو نقصان پہنچایا گیا‘۔

حتمی نتائج کا اعلان منگل تک کر دیا جائے گا۔ انتخابات کے دوسرے مرحلے کی ووٹنگ جون کی 16اور17تاریخ کو ہوگی۔

وائس آف امریکہ کی نامہ نگار الزبیتھ اروٹ نے کہا ہے کہ مورسی اور شفیق کے درمیان دوسرے مرحلے کی ووٹنگ سے مصر کے لوگ مختلف خیالات کے داعی دو امیدوارں میں سے با آسانی کسی ایک کا انتخاب کرسکیں گے۔

شفیق فضائیہ کے ایک سابق کمانڈر رہ چکے ہیں۔ وزیر اعظم کے طور پر اُن کی تقرری کا مقصد مقبول بغاوت سے ذہن ہٹانے کی ایک کوشش تھی۔ لیکن مسٹر مبارک کے ساتھ اُن کے تعلق کے باعث 2011ء کی تحریک سے وابستہ سرگرم کارکن اور دیگر ووٹر اُنھیں شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

صدارتی مہم کے دوران، مرسی نے دھواں دھار تقاریر کیں اور اس بات کا عہد کیا کہ اُن کی صدارت کی بنیاد ملا ئیت نہیں لیکن اسلام ہوگا۔

مرسی کی فتح کی صورت میں اسلام پرست جماعتوں کا قد کاٹھ بڑھے گا، جنھیں چھ ماہ قبل ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں 70 فی صد سے زائد ووٹ ملے تھے۔

XS
SM
MD
LG