رسائی کے لنکس

عبوری حکومت نے اس ناکامی کی ذمہ داری برطرف کیے گئے صدر محمد مرسی کی حامی جماعت اخوان المسلمین اور بعد ازاں پیش آنے واقعات پر عائد کی گئی۔

مصر میں ایوان صدر کا کہنا ہے کہ غیر ملکی سفارتکاروں کی طرف سے ملک میں اسلام پسندوں اور عبوری حکومت کے درمیان مفاہمت کی کوششیں ناکام ہو گئی ہیں۔

بدھ کو جاری ہونے والے ایک بیان میں اس ناکامی کی ذمہ داری برطرف کیے گئے صدر محمد مرسی کی حامی جماعت اخوان المسلمین اور بعد ازاں پیش آنے واقعات پر عائد کی گئی۔

امریکہ، یورپ اور عرب ممالک کے سفارتکار گزشتہ ماہ محمد مرسی کی برطرفی کے بعد سے فریقین سے ملاقاتیں کرتے چلے آرہے تھے۔ فوج نے ملک کے لیے ایک عبوری حکومت قائم کی تھی لیکن اخوان المسلمین کا اصرار ہے کہ ان کے رہنما کو بحال کیا جائے۔

تازہ ترین مفاہمتی کوشش امریکی سینیٹرز جان میک کین اور لنڈسی گراہم کی طرف سے کی گئی جنہوں نے مصر کی عبوری حکومت پر زور دیا کہ سیاسی بحران کے خاتمے کے مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے کے لیے اسلام پسند رہنماؤں کو قید سے رہا کرے۔

امریکی سینیٹرز نے منگل کو قاہرہ میں مصری فوج کے وزیر دفاع عبدالفتاح السیسی سے ملاقات کی تھی۔

سینیٹر گراہم نے صحافیوں کو بتایا کہ مصر کی حکومت کے لیے ’’ناممکن‘‘ ہے کہ وہ کسی ایسے شخص سے مذاکرات کرے ’’ جو قید میں ہو‘‘۔

مصر کے عبوری عہدیداروں نے سابق صدر مرسی سمیت اخوان المسلمین کے اعلیٰ ارکان کو صدر کی برطرفی کے بعد سے تحویل میں لے رکھا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انھوں نے لوگوں کو تشدد پر اکسایا۔
XS
SM
MD
LG