رسائی کے لنکس

حالیہ مہینوں کے دوران، مصر کی حکومت اور حماس کے مابین تعلقات اُس وقت خراب ہوئے جب مصر کی فوج نے غزہ اور شمالی صحرائے سینا کے درمیان باقی ماندہ سرنگیں بند کرنے کی کوششیں شروع کیں

مصر کی عدالت نے غزہ کے ایک عدالتی فیصلے کو منسوخ کردیا ہے، جس میں حماس کے دھڑے کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا تھا۔

اِس ضمن میں ہفتے کے روز حکومت مصر یا حماس کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

مصر کی ایک عدالت کی جانب سے فروری میں حماس کو ایک دہشت گرد گروہ قرار دیا گیا تھا، جِس سے ایک ماہ قبل اُس کے فوجی دھڑے کےبارے میں بھی اِسی نوعیت کا ایک فیصلہ سامنے آیا تھا۔

حالیہ مہینوں کے دوران، مصر کی حکومت اور حماس کے مابین تعلقات اُس وقت خراب ہوئے جب مصر کی فوج نے غزہ اور شمالی صحرائے سینا کے درمیان باقی ماندہ سرنگیں بند کرنے کی کوششیں شروع کی تھیں۔

مصر کے متعدد تجزیہ کار حماس کو کالعدم قرار دی گئی اخوان المسلمین کا ایک دھڑا قرار دیتے ہیں؛ غزہ پر مصر سنہ 1948 سے 1967ء تک حکمرانی کر چکا ہے۔

اقتدار سے ہٹائے جانے سے پہلے، اسلام پسند صدر محمد مرسی جون 2012ء سے جولائی 2013ء تک ملک کے سربراہ رہے؛ جس دوران مصر کے حماس کے ساتھ قریبی تعلقات تھے۔

سنہ 2009، 2012ء اور 2014ء کے دوران غزہ کے تنازعات کے بعد، متواتر کئی حکومتوں کے دور میں، مصر کے انٹیلی جنس ادارے نےاسرائیل اور حماس؛ اور حماس اور فلسطینی اتھارٹی کے لیڈر محمود عباس کے فتح کے متحارب دھڑے کے درمیان سرگرمی کے ساتھ مصالحت کی کوششیں کی تھیں۔

XS
SM
MD
LG