رسائی کے لنکس

مصرمیں انٹرنیٹ ’بلیک آؤٹ‘


انٹرنیٹ کے استعمال کا گراف

انٹرنیٹ کے استعمال کا گراف

مصر میں حکام نے ملک میں انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والے آخری ادارے کو بھی بند کر دیا ہے۔ اس طرح اب پورا ملک آف لائن ہو گیا ہے ۔ حکومت نے احتجاج کرنے والے لوگوں کی تعداد کم کرنے کے لیئے ٹرین سروس بند کر دی ہے اورسیل فون ختم کر دیے ہیں۔

رینیسس ایک ایسی کمپنی ہے جو دنیا بھر میں انٹرنیٹ ٹریفک پر نظر رکھتی ہے ۔ اس کمپنی کے چیف ٹیکنالوجی افسر جم کاؤوی کہتے ہیں کہ ان کی کمپنی نے مصر میں انٹرنیٹ پر جو کچھ ہوتے دیکھا وہ بڑا عجیب تھا۔’’گذشتہ جمعے کو ہم انٹرنیٹ پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ ہمیں ایک ایسی چیز نظر آئی جو ہم نے اتنے بڑے پیمانے پر، اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ انٹرنیٹ کے چند پرووائڈرز کو چھوڑ کر، مصر کو جانے والی تمام انٹرنیٹ سروسز غائب ہو گئیں۔ بیس منٹ کے اندر، انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والے تمام اداروں نے، جن کے مصر میں بین الاقوامی کنیکشن ہیں، ایک ایک کرکے سب کنیکشن ختم کر دیے۔‘‘

ایکISP یا انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والا گروپ، نور گروپ آن لائن رہا۔ یہ گروپ تقریباً 83 کسٹمر نیٹ ورکس کو انٹرنیٹ سروس فراہم کرتا ہے ۔ ان میں مصری اسٹاک ایکسچینج ، کثیر الملکی کمپنیاں اور دوسرے مالیاتی ادارے شامل ہیں۔ لیکن کاؤوی کہتے ہیں کہ پیر کی صبح نور گروپ کو بھی آف لائن کر دیا گیا۔ ہم جیسے لوگوں کے لیئے جو انٹرنیٹ routing کو مانیٹر کرتے ہیں، یہ بڑی حیرت کی بات تھی۔ سیاسی طور پر سرگرم لوگوں کو بھی اس پر بڑی حیرت ہوئی۔

Cyberdissidents-dot-org ایسی تنظیم ہے جو آن لائن سرگرم کارکنوں کے حقوق کے لیئے جدوجہد کرتی ہے۔ اس تنظیم کے ڈائریکٹر ڈیوڈ کیز کہتے ہیں’’مصر میں جتنے حکومت مخالف لوگوں سے میں گوگل چیٹ کرتا تھا، وہ اچانک غائب ہو گئے ، کیوں کی انٹرنیٹ سروس ختم کر دی گئی، اور وہ اب تک واپس نظر نہیں آئے ہیں۔‘‘

کیز کہتے ہیں کہ یہ صحیح ہے کہ اگرچہ حکام کے اس فیصلے سے، جسے بعض لوگ انٹرنیٹ کِل سوئچ کا استعمال کہتے ہیں، ان کا کام بہت مشکل ہو گیا ہے، لیکن بالآخر اس فیصلے سے آمرانہ حکومتوں کو نقصان ہوگا۔ لوگ سمجھ گئے ہیں کہ انٹرنیٹ کو بند کرنے کا مطلب یہ ہے کہ حکومت عوام کی طاقت سے خوفزدہ ہے۔

انٹرنیٹ کے ماہرین کہتے ہیں کہ مصر پہلا ملک نہیں ہے جس میں ویب پر سوئچ کِل استعمال کیا گیا ہے۔ ماضی میں اسی قسم کے ہتھکنڈے برما، چین، اور نیپال میں استعمال کیئے جا چکے ہیں۔ لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر انٹرنیٹ کو بند کیا گیا ہے۔ اور اگرچہ حکام نے ISPS کو بند کردیا ہے، لیکن عام لوگوں نے باہر کی دنیا سے رابطے کے دوسرے طریقے معلوم کر لیئے ہیں۔ بعض لوگ پرانے وقتوں کا dial-up ٹیلیفون سسٹم استعمال کر رہےہیں۔ گوگل اور ٹوئٹر نے مِل کر ایک سہولت فراہم کی ہے جسے سپیک ٹو ٹویٹ کہتے ہیں۔ اس سروس کے ذریعے لوگ ٹوئٹر پر مصر سے اور دنیا بھر سے پیغامات سن سکتے ہیں اور ریکارڈ کرا سکتے ہیں۔

یہ بات واضح نہیں ہے کہ مصر میں انٹرنیٹ کا بلیک آؤٹ کب تک جاری رہے گا لیکن بیشتر ماہرین کا خیال ہے کہ معاشرے پر اور معیشت پر اس کے جو اثرات ہو رہےہیں، ان کی روشنی میں یہ زیادہ عرصے جاری نہیں رہ سکتا۔ جارج واشنگٹن یونیورسٹی کے پروفیسر اسٹیون لونگسٹون کہتے ہیں کہ مصر کے انٹرنیٹ کو بند کرنے کے فیصلے سے اس کی اقتصادی حالت کو جو پہلے ہی خراب ہے، اور زیادہ نقصان پہنچا ہے ۔’’

مصر کی اقتصادی حالت خرا ب ہے ۔ اسے اپنی بہت بڑی اور نوجوانوں پر مشتمل آبادی کے لیئے روزگار کے مواقع کی ضرورت ہے۔ اس کی اقتصادی ترقی کی شرح چین اور بھارت کے برابر ہونی چاہیئے جب کہ یہ ان سے بہت کم ہے ۔‘‘

مصری عہدے دار کہتے ہیں کہ گذشتہ سال انفارمیشن اور کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں ترقی کی شرح 12 فیصد تھی۔ Cyberdissidents-dot-org کے ڈیوڈ کیز کا خیال ہے کہ اگرچہ انٹرنیٹ کے کِل سوئچ کو استعمال فوری طور پر مؤثر ثابت ہوتا ہے، لیکن بالآخر مصری عوام کو اور دنیا کے لوگوں کو ہی بالا دستی حاصل ہوتی ہے ۔ ’’یقیناً ایسے طریقے ہیں جن کے ذریعے علاقے کی حکومتیں انٹرنیٹ کو اپنے مقصد کے لیئے استعمال کرتی ہیں اور کبھی کبھی انہیں خوب کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ معلومات اور اطلاعات کو دبانا انتہائی مشکل کام ہے۔‘‘

بعض مبصرین کے خیال میں، مصر میں گذشتہ ہفتے کے دوران یہی کچھ ہوا ہے ۔ حکومت کی طرف سے فیس بُک، ٹوئٹر اور پورا انٹرنیٹ بند کیئے جانے کے باوجود سڑکوں پر احتجاج کرنے والوں کا سیلاب امڈتا رہا ہے ۔

XS
SM
MD
LG