رسائی کے لنکس

’مصر اور ایران کے تعلقات میں گرم جوشی پیدا ہورہی ہے‘

  • جیفری ینگ

ایرانی بحریہ کے جہاز مصر کی نہر سوئز سے گرز رہے ہیں

ایرانی بحریہ کے جہاز مصر کی نہر سوئز سے گرز رہے ہیں

مصر اور ایران کے درمیان ایک عرصے سے سرد مہری پر مبنی تعلقات میں اب گرم جوشی پیدا ہو رہی ہے۔ دونوں ملکو ں کے درمیان رابطے اب اس حد تک بڑھ چکےہیں کہ ایران کے نائب وزیرِ خارجہ جلد ہی مذاکرات کے لیے قاہرہ جائیں گے۔ غیر وابستہ تحریک کی آئندہ میٹنگ کے زمانے میں ایران اور مصر کے وزرائے خارجہ کے درمیان بھی میٹنگیں ہوں گی۔

یہ منظر گذشتہ تین عشروں سے دیکھنے میں نہیں آیا تھا۔ 22 فروری کو ایرانی بحریہ کے دو جہاز مصر کی نہر سوئز سے ہو کر بحرِ روم میں داخل ہوئے ۔ یوں تو یہ کوئی خاص واقعہ نہیں تھا۔ لیکن وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو ان جہازوں کا گذرنا، دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی تجدید تھی۔

ایک زمانہ تھا کہ مصر اور ایران شادی کے بندھن میں بندھے ہوئے تھے ۔ ایران کے بادشاہ ، شاہ محمد رضا پہلوی نے 1939 میں مصر کی شہزادی فوزیہ فواد سے شادی کی تھی۔ اگرچہ یہ شادی طلاق پر ختم ہو گئی ، لیکن دونوں ملکوں کے درمیان 1979 کے اسلامی انقلاب تک سفارتی تعلقات قائم رہے۔

اس کے بعد تہران نے تعلقات ختم کر دیے۔ کیوں کہ شاہ کے ایران سے چلے جانے کے بعدمصر نے شاہ کو قبول کر لیا تھا، اور اسرائیل کے ساتھ کیمپ ڈیوڈ امن سمجھوتو ں پر دستخط کردیے تھے ۔

صدرحسنی مبارک کے 30 سالہ دورِ حکومت میں دونوں ملکوں کے درمیان فاصلہ قائم رہا۔ 11 فروری کو زبردست احتجاجوں کے بعد صدر مبارک کو اقتدار سے دستبردار ہونا پڑا۔ اس کے بعد سے، مصر کی نگراں فوجی حکومت نے ایران کے ساتھ تعلقات میں گرم جوشی شروع کی ہے ۔ اس تبدیلی کا ایک پہلو فلسطینیوں کے دو متحارب گروہوں، فتح اور حماس کے درمیان، اتحاد کا سمجھوتہ ہے جو مصر کی کوششوں سے ہوا ہے اور جسے ایران کی بھر پور حمایت حاصل ہے۔ پوٹومیک انسٹی ٹیوٹ کے تجزیہ کار، توفیق حامد کہتے ہیں کہ اس سمجھوتے کا مقصد یہ ہے کہ مصر کا روایتی ثالث کا رول بحال کیا جائے۔

’’عربوں اور فلسطینیوں کا خیال تھا کہ مبارک کے دور میں، مصر امریکہ اور اسرائیل کا حامی اور فلسطینیوں کا مخالف تھا۔ لہٰذا مصر کی سرکردہ عرب ملک کی حیثیت کمزور ہو گئی تھی۔ مبارک کے زوال کے بعد جب نئی حکومت اور نیا نظام آیا، تو وہ چاہتے تھے کہ مصر کی قائدانہ حیثیت بحال ہو جائے ۔ اس کے لیے جو کام سب سے تیزی سے کیا جا سکتا تھا وہ یہ تھا کہ حماس اور فتح کو قریب لایا جائے۔‘‘

مصر نے کہا تو یہی ہے کہ ان اقدامات کا مقصد ایران کے ساتھ تعلقات کو معمول کے مطابق لانا ہے، کوئی خصوصی تعلق قائم کرنا نہیں۔ مصر کی وزارتِ خارجہ کی خاتون ترجمان، Mehna Bakhoum نے کہا ہے کہ ہم ایران کو علاقے میں ہمسایے کے طور پر دیکھتے ہیں جسکے ساتھ ہمارے معمول کے تعلقات ہونے چاہئیں۔ ایران کو ہم دشمن نہیں سمجھتے جیسا کہ مبارک کی حکومت کے زمانے میں سمجھا جاتا تھا، اور نہ ہی ایران کو دوست سمجھا جاتا ہے۔

ایران اور حماس کے ساتھ گرمجوشی کے تعلقات، مصر کے لیئے صرف غیر ملکی سفارتی اقدامات نہیں۔ اس تبدیلی سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اسلامی گروپ اخوان المسلمین نے جس پر کبھی پابندی لگی ہوئی تھی اور جو حماس کا حامی ہے، کس طرح آنے والے انتخابات سے قبل اپنے اثر و رسوخ میں اضافہ کر لیا ہے۔ رینڈ کے تجزیہ کار علی رضا نادر کہتے ہیں’’بعض معاملات میں مصر اور حماس ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں۔ مصر غزہ کی پٹی سے ناکہ بندی ختم کر رہا ہے۔ اخوان المسلین جو کئی لحاظ سے حماس کی اتحادی ہے، مصر کی سیاست میں اہم رول ادا کرے گی۔‘‘

بعض دوسرے تجزیہ کار کہتےہیں کہ قاہرہ نے ایران کے ساتھ تعلقات میں گرم جوشی پیدا کی ہے، لیکن کچھ دوسرے ملکوں نے ان اقدامات کے بارے میں محتاط رویہ اختیار کیا ہے ۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ مصر نے انہیں اطمینان دلانے کی کوشش کی ہے۔

کارنیگی اینڈومنٹ فار انٹرنیشنل پیس کی میشیل ڈیون کہتی ہیں’’سعودی عرب، اسرائیل، اورامریکہ جیسے بہت سے ملکوں نے مصر کے بارےمیں تشویش کا اظہار بھی کیا ہے۔ مصر نے اس تشویش کو دور کرنے کے لیے پہلے ہی کچھ اقدامات کیے ہیں۔ زیادہ نہیں ہوئے جب مصر کے وزیر اعظم ایران کے ساتھ تعلقات معمول کے مطابق لانے کے بارے میں بعض سوالات کے جوا ب دینے کے لیئے سعودی عرب گئے تھے۔‘‘

لیکن واشنگٹن پوسٹ کو ایک حالیہ انٹر ویو میں مصر کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر نبیل العربی نے اس بات پر اصرار کیا کہ ایران کے ساتھ تعلقات معمول کے مطابق لانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ امریکہ سمیت دوسرے ملکوں کے ساتھ ہمارے تعلقات منجمد ہو گئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG