رسائی کے لنکس

مصر کےاعتدال پسند صدراتی امیدوار، عبدالمعین ابوفتح، کو ملنے والی حمایت طاقت ور اسلام پسند پارٹی اخوان المسلیمین پر بڑھتے ہوئے عدم اعتماد کی جانب اشارہ کرتی ہے

مصر کے نئے صدرکے لیےانتخابی مہم میں مصروف ایک اعتدال پسند اسلام پسند راہنما ملک کی انتہائی قدامت پسند مذہبی جماعتوں اور سابق عسکریت پسند جہادیوں کی حمایت جیتنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان کی حمایت ان کی جانب سے ملنے والی حمایت طاقت ور اسلام پسند پارٹی اخوان المسلیمین پر بڑھتے ہوئے عدم اعتماد کی جانب اشارہ کرتی ہے۔

چنانچہ اب عبدالمعین ابوفتح کو الیکشن میں سیکولر اعتدال پسندوں ، بعض عیسائی گروپوں اور کٹٹر اسلام پسندوں کی حمایت بھی حاصل ہوگی۔

ابوفتح جو ایک سال پہلے تک اخوان المسلیمین کے ایک سینیئر راہنماتھے،انہیں بعض اختلافات کی بنا پر پارٹی سے نکال دیا گیاتھا۔ اخوان المسلیمین کو اب مصر کی پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل ہے۔

جب کہ ابوفتح کو اسلامی قدامت پسند گروپوں میں ایک اعتدال پسند اصلاح کار کے طورپر دیکھا جارہاہے۔

60 سالہ باریش سیاسی راہنما کو پارٹی سے نکالے جانے سے قبل اس پر مالیاتی امور کی غیرشفافیت اور متنازع نظریات رکھنے کے الزامات لگائے گئے تھے، کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ وہ صدر کے طورپر ایک اچھے عیسائی کو ایک برے مسلمان پر ترجیح دیں گے۔

ابوفتح کو تازہ حمایت انتہائی کٹڑ گروپ صفلی سے ملی ہے۔ سعودی عرب سے متاثر یہ گروپ اسلام کی تشریح وہابی مسلک کے مطابق کرتا ہے۔

XS
SM
MD
LG