رسائی کے لنکس

ان تینوں سرگرم کارکنوں کو نومبر میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب یہ تینوں رہنما اس نئے قانون کے خلاف مظاہرے میں شریک تھے جس کے تحت مصر میں مظاہروں کے لیے پولیس سے پیشگی اجازت لینا ضروری قرار دیا گیا ہے۔

مصر میں 2011ء میں ہونے والی انقلاب میں شورش برپا کرنے اور صدر حسنی مبارک کے خلاف مظاہروں میں اہم کردار ادا کرنے والی تین سرکردہ سیاسی سرگرم کارکنوں کو اتوار کے روز تین تین سال کی قید سنائی گئی ہے۔

احمد ماہر، احمد دوما اور محمد عدل کو ان مظاہروں میں بڑھ چرح کر حصہ لینے اور مصر کے سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف تحریک چلانے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

عدالت کی جانب سے دی گئی تین تین سال کی قید کے علاوہ تینوں سیاسی سرگرم کارکنوں کو 50,000 مصری پاؤنڈ بھی بطور جرمانہ ادا کرنا ہوں گے۔

فیصلہ سننے کے بعد احمد ماہر، احمد دوما اور محمد عدل نے فوجی کے خلاف نعرہ بازی کی۔

ان تینوں سرگرم کارکنوں کو نومبر میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب یہ تینوں رہنما اس نئے قانون کے خلاف مظاہرے میں شریک تھے جس کے تحت مصر میں مظاہروں کے لیے پولیس سے پیشگی اجازت لینا ضروری قرار دیا گیا ہے۔

ان تینوں رہنماؤں پر پولیس کی پیشگی اجازت کے بغیر احتجاج کے لیے اکٹھے ہونے اور پولیس پر چڑھائی کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

مصر میں معزول کیے گئے صدر محمد مرسی کی جماعت اخوان المسلون کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔ دوسری طرف مصری حکام نے کئی ایسے سیکولر سرگرم کارکنوں کو بھی زیر ِ حراست لیا ہے جو نئے قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب پائے گئے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ نیا قانون اس لیے نافذ کیا گیا ہے تاکہ ایک ایسے وقت میں جب مصر میں عبوری حکومت نئے سیاسی نظام کے لیے راہ ہموار کر رہی ہے تاکہ ملک میں دوبارہ 2011ء جیسے حالات پیدا نہ ہو سکیں۔

مصر میں نئے دستور پر جنوری میں ریفرنڈم منعقد کیا جائے گا۔
XS
SM
MD
LG