رسائی کے لنکس

مصر: انسداد دہشت گردی کا مجوزہ قانون تنقید کی زد میں


فائل فوٹو

فائل فوٹو

مصر کے صحافیوں کی ایک تنظیم نے انسداد دہشت گردی سے متعلق نئی قانون سازی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے آزادی صحافت کے لیے دھچکہ قرار دیا ہے۔

مصر میں ایک نیا قانون بنایا جا رہا ہے جس میں دہشت گردی سے متعلق معاملات پر حکومتی موقف سے ہٹ کر خبر نگاری کو قابل سزا جرم قرار دیا جا رہا ہے۔

مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ یہ قانون ان کی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کو ادائیگی میں مزید رکاوٹ بںے گا اور ان کا استدلال ہے حکام ذرائع ابلاغ کو صرف "یک رخی" موقف دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

انسداد دہشت گردی کے اس مسودہ قانون کو گزشتہ ہفتے کابینہ نے منظور کر لیا تھا اور اب یہ صدر عبدالفتاح السیسی کی منظوری کا منتظر ہے۔ اس مجوزہ قانون کے تحت "دہشت گردی کے خلاف آپریشن سے متعلق جھوٹی خبر یا ایسی معلومات جو کہ حکام کی طرف سے فراہم کردہ معلومات سے مطابقت نہ رکھتی ہو، جاری کرنے پر"، کم ازکم دو سال قید کی سزا دی جا سکے گی۔

یہ سلسلہ ایک ایسے وقت زیر بحث آیا ہے جب جون کے اواخر میں قاہرہ میں ایک کار بم دھماکے میں ملک کے اٹارنی جنرل کی ہلاکت کے بعد مصری قیادت نے دہشت گردی کے نمٹنے کے لیے سخت اقدام کرنے کا عزم کیا ہے۔

ایک بیان میں مصر کے صحافیوں کی ایک تنظیم نے انسداد دہشت گردی سے متعلق نئی قانون سازی پر کڑی تنقید کی ہے۔

"یہ صحافی کا مناسب حق ہے کہ وہ مختلف ذرائع سے معلومات حاصل کر کے خبر مرتب کرے۔ یہ قانون آزادی صحافت اور آزادی خیال کے لیے واضح دھچکہ ہے۔"

انسداد دہشت گردی کے مجوزہ قانون کی فہرست میں 25 سے زائد جرائم کو شامل کیا گیا ہے جن میں سے ایک درجن کے قریب ایسے ہیں جن کی سزا موت ہے۔

مصر کے وزیر انصاف احمد الزند نے فرانسیسی خبر رساں سروس کو بتایا کہ " بعض معیار مقرر کرنے کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں تھا۔ حکومت کا فرض ہے کہ وہ شہریوں کو غلط معلومات سے بچائے۔۔۔ مجھے امید ہے اسے میڈیا کی آزادی پر قدغن کے طور پر نہیں لیا جائے گا۔ یہ صرف اعداد و شمار سے متعلق ہے۔"

یہ مجوزہ قانون سازی مصر کی حکومت، سول سوسائٹی اور میڈیا کے مابین تازہ ترین اختلاف ہے۔ صحافیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم "کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس" کا کہنا ہے کہ مصر میں اس وقت بھی کم ازکم 18 صحافی مختلف الزامات میں قید ہیں۔

XS
SM
MD
LG