رسائی کے لنکس

مصر میں قومی سلامتی سے متعلق اعلٰی عہدیدار محمد مبارک کو قاہرہ کے مشرق میں اُن کے گھر کے باہر سات گولیاں ماری گئیں۔

مصر میں اسلامی جماعت اخوان المسلمین کی نگرانی کے عمل کے سربراہ کے طور پر کام کرنے والے قومی سلامتی سے متعلق اعلٰی عہدیدار کو نا معلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔

عہدیداروں نے بتایا کہ مسلح افراد نے محمد مبارک کو اتوار کو دیر گئے قاہرہ کے مشرق میں اُن کے گھر کے باہر سات گولیاں ماریں۔

کسی نے اس واقعہ کی فوری طور پر ذمہ داری قبول نہیں کی۔

مصر کے وزیر اعظم حازم البیبلاوی نے پیر کو ایک بیان میں ملک کی نیشنل سکیورٹی کے اعلٰی عہدیدار کو ہلاک کرنے کے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت مجرمانہ اور دہشت گردانہ واقعات کو کسی صورت برداشت نہیں کرے گی۔

فائرنگ کا یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب چند روز قبل ہی مصر کی حکومت نے ملک میں تین ماہ سے نافذ کی گئی ہنگامی صورت ’ایمرجنسی‘ اور کرفیو کے خاتمے کا اعلان کیا تھا۔

حکومت نے برطرف صدر محمد مرسی کے حامیوں اور اخوان المسلمین کے خلاف ’کریک ڈاؤن‘ کے دوران ہنگامی صورت حال اور کرفیو کے نفاذ کا اعلان کیا تھا۔
XS
SM
MD
LG