رسائی کے لنکس

مظاہروں کے منتظمین نے دعویٰ کیا ہے کہ تقریبا دو کروڑ بیس لاکھ لوگوں نے صدر سے استعفے کے مطالبے کی درخواست پر دستخط کیے ہیں، جو کہ ان کے بقول اس بات کی عکاس ہے کہ عوام ان کے حکومت کے مخالف ہو چکے ہیں۔

مصر میں صدر محمد مرسی سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کرنے والے ہزاروں افراد قاہرہ میں جمع ہونا شروع ہوگئے ہیں۔

اتوار کو ان مظاہروں کے منتظمین نے دعویٰ کیا ہے کہ تقریبا دو کروڑ بیس لاکھ لوگوں نے صدر سے استعفے کے مطالبے کی درخواست پر دستخط کیے ہیں، جو کہ ان کے بقول اس بات کی عکاس ہے کہ عوام ان کے حکومت کے مخالف ہو چکے ہیں۔

لوگوں کی بڑی تعداد ان مظاہروں میں شرکت کے لیے ہفتہ کی شام ہی سے قاہرہ کے تحریر اسکوائر پر جمع ہونا شروع ہوگئی تھی۔

گزشتہ ہفتے صدر مرسی کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں ایک امریکی شہری سمیت کم ازکم سات افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

امریکی صدر براک اوباما نے ایک روز قبل کہا تھا کہ ان کا ملک مصر میں سیاسی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور اس پر اسے تشویش ہے۔

انھوں نے یہ بات دورہ جنوبی افریقہ میں صدر جیک زوما کے ہمراہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

’’ میرے خیال میں ہر جماعت کو تشدد ترک کرنا چاہیے۔ ہم چاہتے ہیں کہ حزب مخالف اور صدر مرسی ایک بہتر اور تعمیری انداز میں مکالمہ کریں کہ وہ کس طرح اپنے ملک کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں کیونکہ موجود حالات سے کسی کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا۔‘‘

مصر میں جھڑپوں میں ہلاک ہونے والے امریکی شہری اینڈریو پوچر ایک طالب علم تھا جسے اسکندریہ میں مظاہروں کی عکس بندی کے دوران چاقو کے وار کرکے قتل کیا گیا۔

ایک بیان میں پوچر کے اہل خانہ کا کہنا تھا کہ اسے اس خطے کی ثقافت سے پیار تھا وہ رہ اسکندریہ میں گرمیوں کے دوران بچوں کو انگلش کی تعلیم دینے وہاں گیا ہوا تھا۔

صدر محمد مرسی کے اقتدار کو ایک سال مکمل ہوگیا ہے۔ حزبِ اختلاف کا الزام ہے کہ صدر مرسی کی حکومت میں لبرل اور سیکولر طبقوں کی نمائندگی نہیں جب کہ ان کی پالیسیاں بھی یک طرفہ ہیں جن کے باعث ملکی حالات ابتر ہورہے ہیں۔
XS
SM
MD
LG