رسائی کے لنکس

مظاہرین پر فائرنگ کا کبھی حکم نہیں دیا: حسنی مبارک


مظاہرین پر فائرنگ کا کبھی حکم نہیں دیا: حسنی مبارک

مظاہرین پر فائرنگ کا کبھی حکم نہیں دیا: حسنی مبارک

مصر کے میڈیا نے کہاہے کہ سابق صدر حسنی مبارک نے پراسیکیوٹرز سے کہا ہے کہ انہوں نے اپنے اقتدار کے آخری دنوں میں سیکیورٹی فورسز کو مظاہرین پر فائرنگ کا حکم نہیں دیا تھا۔ اس سال فروری میں مسٹر مبارک کو صدارت چھوڑنے پر مجبور کرنے کے لیے ملک بھر 18 روز تک بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے تھے ۔

مسٹر مبارک سے پراسیکیوٹرز کے سوالات پر مشتمل مسودہ جمعرات کے روز مصر کے دو اخبارات میں شائع ہوا ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کا کہناہے کہ مصر کے عدالتی عہدے داروں نے مسودہ حقیقی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کا کہناہے کہ سابق صدر کے وکیل فریدالدیب نے اے پی کو بتایا کہ اخباروں میں شائع ہونے والے مسودے کا کچھ حصہ شدہ ہے، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ان کے اصل بیان میں کیا تبدیلیاں کی گئی ہیں۔

شائع شدہ مسودے میں کہا گیا ہے کہ مسٹر مبارک نے پولیس کو واضح ہدایات جاری کی تھیں کہ وہ ان کے صدارتی عہدے کے خلاف ملک گیر مظاہروں میں حصہ لینے والے افراد کے خلاف طاقت کا استعمال نہ کریں۔

مسٹر مبارک نے ان الزامات کی تردید کی کہ انہوں نے مظاہرین پر فائرنگ کا حکم دیا تھا یا یہ کہ انہیں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے مظاہرین پر گولیاں چلانے کا علم تھا۔

سابق مصری صدر اگلے ماہ عدالت میں خود پر لگائے جانے والے الزامات کا سامنا کریں گے۔ ان دنوں وہ اقتدار سے علیحدگی کے بعد سےمصر کے ایک تفریحی مقام شرم الشیخ کے ایک اسپتال میں زیر علاج ہیں۔

سابق صدر اور ان کے دو بیٹوں پر بدعنوانی کے بھی الزامات ہیں۔

مصر میں مسٹر حسنی مبارک کو ان کی تین عشروں پر محیط صدارت چھوڑنے پر مجبور کرنے اور سیاسی اصلاحات کے لیے 18 روزہ مظاہروں میں تشدد کے متعدد واقعات کے دوران تقریباً نو سو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

مصر کے اصلاح پسند ملک کی عبوری فوجی کونسل پر مسٹر مبارک کے خلاف جلد مقدمات چلانے پر زور دے رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG