رسائی کے لنکس

حسنی مبارک کے خلاف مقدمے کی کارروائی کا دوبارہ آغاز


کمرہ عدالت میں حسنی مبارک آہنی پنجرے کے پیچھے بستر پر لیٹے ہیں

کمرہ عدالت میں حسنی مبارک آہنی پنجرے کے پیچھے بستر پر لیٹے ہیں

مصر کے سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف رواں برس چلنے والی احتجاجی تحریک کے 850 شرکاء کو ہلاک کرنے کے احکامات جاری کرنے کے الزام میں مقدمے کی کارروائی ایک بار پھر شروع ہوگئی ہے۔

رواں ماہ کے آغاز پر مقدمے کی ابتدائی کارروائی کے دوران مسٹر مبارک نے خود پر عائد الزامات کی صحت سے انکار کیا تھا۔

حسنی مبارک کو پیر کو مقدمے کی سماعت کرنے والی قاہرہ کی ایک عدالت کے سامنے اسٹریچر پر لایا گیا۔ تین اگست کو ہونے والی پہلی سماعت کے دوران بھی انہوں نے اسپتال کے بستر پر لیٹ کر عدالتی کارروائی میں شرکت کی تھی۔

83 سالہ سابق صدر کو اپنے خلاف بدعنوانی اور اختیارات سے تجاوز کے الزامات کا بھی سامنا ہے اور جرم ثابت ہوجانے پر انہیں موت کی سزا سنائی جاسکتی ہے۔

مقدمے کے شریک ملزمان اور حسنی مبارک کے صاحبزادوں اعلیٰ اور جمال بھی پیر کو ہونے والی کارروائی میں اپنے والد کے ہمراہ کمرہ عدالت میں بنائے گئے خصوصی پنجرہ نما کٹہرے میں موجود تھے۔ دونوں شریک ملزمان نے بھی خود پر عائد بدعنوانی کے الزامات کی صحت سے انکار کیا ہے۔

ادھر عدالتی کارروائی کے دوران کمرہ عدالت کے باہر جمع ہونے والے حسنی مبارک کے حامیوں اور مخالفین کے مابین جھڑپیں ہوئیں جن کے دوران فریقین نے ایک دوسرے پر پتھراؤ بھی کیا۔

مسٹر مبارک کو عدالتی کارروائی میں شرکت کے لیے قاہرہ کے اس اسپتال سے بذریعہ ہیلی کاپٹر عدالت پہنچایا گیا تھا جہاں وہ مقدمے کے آغاز سے مقیم ہیں۔ قاہرہ آمد سے قبل سابق صدر مصر کے سیاحتی مقام شرم الشیخ میں نظر بندی کے دن گزار رہے تھے۔

سابق صدر کے قریبی ساتھیوں کا کہنا ہے کہ رواں برس فروری میں چلنے والی 18 روزہ طویل احتجاجی تحریک کے نتیجے میں اقتدار سے علیحدگی کے بعد سے مسٹر مبارک سخت علیل ہیں۔

سابق صدر کے وکلاء نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ مصر کی موجودہ حکمران فوجی کونسل کے سربراہ اور سابق انٹیلی جنس چیف سمیت 1600 افراد کو مقدمے کے دوران بیانِ حلفی دینے کے لیے عدالت میں طلب کیا جائے۔

سابق مصری صدر وہ پہلے عرب رہنما ہیں جنہیں 'عرب اسپرنگ' کے نام سے معروف شمالی افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ میں چلنے والی حالیہ احتجاجی تحریک کے نتیجے میں مقدمات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

اس سے قبل گزشتہ روز مصر کے سابق وزیرِ داخلہ اور ان کے چھ معاونین کے خلاف مظاہرین کے قتل کے احکامات جاری کرنے کے الزام کے تحت ایک علیحدہ مقدمے کی کارروائی کے دوبارہ آغاز کے کچھ ہی دیر بعد مقدمے کی سماعت کرنے والے جج نے کمرہ عدالت میں "رش" کی بنیاد پر اچانک سماعت ملتوی کردی تھی۔

جج نے ملزمان کی جانب سے التواء کی کئی درخواستوں کے پیشِ نظر آئندہ سماعت 5 ستمبر کو کرنے کا اعلان کیا ہے۔

XS
SM
MD
LG