رسائی کے لنکس

مصر:رہائی کے بعد حسنی مبارک کی نظر بندی کا ’حکم‘


حسنی مبارک (فائل فوٹو)

حسنی مبارک (فائل فوٹو)

عبوری وزیراعظم کی طرف سے یہ فیصلہ ملک میں نافذ ہنگامی حالت اور سیاسی صورتحال کے تناظر میں کیا گیا۔

مصر کے سابق صدر حسنی مبارک کو جمعرات کے روز رہا کیے جانے کے بعد نظر بند کیا جاسکتا ہے۔

عبوری وزیراعظم کی طرف سے بدھ کو دیر گئے یہ فیصلہ ملک میں نافذ ہنگامی حالت اور سیاسی صورتحال کے تناظر میں کیا گیا۔ تاحال یہ واضح نہیں کہ 85 سالہ سابق صدر کو کس مقام پر نظر بند کیا جائے گا۔

مسٹر مبارک کو اب بھی اپنے تیس سالہ دور حکومت کے دوران بدعنوانی کے علاوہ 2011ء میں اپنے خلاف شروع ہونے والی تحریک میں مخالفین پر تشدد اور انھیں قتل کرنے کے احکامات دینے جیسے الزامات کا سامنا ہے۔ اس تحریک کے نتیجے میں انھیں اقتدار سے علیحدہ ہونا پڑا تھا۔

حکومت چھوڑنے کے بعد سے وہ ان الزامات کے تحت زیر حراست تھے اور گزشتہ سال انھیں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ انھوں نے اس سزا کے خلاف اپیل دائر کر رکھی تھی۔

عدالت نے مسٹر مبارک کے رہائی کا فیصلہ ان کے خلاف جاری بدعنوانی کے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران دیا اور اسے حتمی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے خلاف اپیل نہیں ہوسکتی۔

مصر میں حالیہ مہینوں میں سیاسی بدامنی دیکھنے میں آئی ہے جس میں گزشتہ ماہ اس وقت اضافہ ہوا جب فوج نے پہلے جمہوری منتخب صدر محمد مرسی کو برطرف کرکے ایک عبوری حکومت قائم کی۔

مرسی کی حامی جماعت اخوان المسلمین نے ملک بھر میں مظاہرے شروع کر رکھے ہیں اور ان کی بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ سکیورٹی فورسز نے ان مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کیا اور اس دوران ہونے والی جھڑپوں میں ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
XS
SM
MD
LG