رسائی کے لنکس

دریائے نیل کے مغرب میں قدیم مقبرے سے اہم نوادرات دریافت


مصر

نوادرات کی نگران وزارت کے مطابق، مقبرہ، جو القصر کے قریب دریائے نیل کے مغربی کنارے پر واقع ہے، اُسے 1500 سے 1000 قبل مسیح دور کے درمیان تعمیر کیا گیا؛ جو ممکنہ طور پر کسی منصف کا ہے

مصر میں آثارِ قدیمہ کے ماہرین نے 3500 سال پرانے مقبرے سے کئی مجسمے، حنوط شدہ لاشیں اور تابوت برآمد کیے ہیں، جنھیں تاریخی اہمیت کی حامل قرار دیا جا رہا ہے۔

نوادرات کی نگران وزارت کے مطابق، مقبرہ، جو القصر کے قریب دریائے نیل کے مغربی کنارے پر واقع ہے، اُسے 1500 سے 1000 قبل مسیح دور کے درمیان تعمیر کیا گیا؛ جو ممکنہ طور پر کسی منصف کا ہے۔

مقبرہ ’درعا ابولنغا‘ کے قبرستان میں واقع ہے، جو بادشاہوں کی وادی سے زیادہ فاصلے پر نہیں، جس کے سامنے ایک چبوترہ ہے جو دو احاطوں کی جانب کھلتا ہے۔ ایک احاطے میں چار رنگین تابوت، جب کہ دوسرے میں چھ تابوت دفن تھے۔

ایسو سی ایٹڈ پریس نے اطلاع دی ہے کہ کھدائی کرنے والے دستے کے سربراہ، مصطفیٰ الوزیری نے بتایا ہے کہ دوسرے احاطے کے اندر مجسمے ہیں، جو اس سے پرانے دور کے بادشاہوں کا پتا دیتے ہیں۔

’الجزیرہ‘ کے مطابق، نوادرات کے وزیر، خالد العنانی نے مقبرے کے باہر، اخباری نمائندوں کو بتایا کہ مقبرے میں’’بہت کچھ چھپا ہوا تھا‘‘۔

اُنھوں نے بتایا کہ بڑی تعداد میں اشابتی (کُندہ چھوٹے مجمسے) ملے ہیں، جن کی تعداد 1000کے قریب ہے۔ یہ بہت ہی اہم دریافت ہے‘‘۔

بتایا جاتا ہے کہ آثارِ قدیمہ کی مزید نوادرات کی دریافت کا امکان ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG