رسائی کے لنکس

اخوان المسلمین کا مستقبل


اخوان المسلمین کا مستقبل
اخوان المسلمین کا مستقبل

مصر میں پارلیمینٹ کے انتخابات پیر سے شروع ہونے والے ہیں۔ انقلاب کے بعد ملک میں یہ پہلے انتخاب ہوں گے۔ خیال ہے کہ انتخابات کا سب سے زیادہ فائدہ اخوان المسلمین کو ہوگا۔ لیکن اخوان کا مسئلہ یہ ہے کہ ملک کے باہر بعض لوگوں کا خیال ہے کہ وہ بہت زیادہ انتہا پسند ہیں، جب کہ مصر میں کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ ان کے رویے میں لچک بہت زیادہ ہے ۔ قاہرہ میں وائس آف امریکہ کی نامہ نگار الزبتھ ارروٹ نے کچھ وقت اخوان المسلمین کے ایک امیدوار کی انتخابی مہم میں ان کے ساتھ گذارا۔

اگر کسی سیاستداں کا مقصد یہ ہو کہ اپنے پیغام کو زیادہ سے زیادہ لوگوں کے لیے پُر کشش بنایا جائے، تو اخوان المسلمین کے امیدوار امر ذکی یہ کام بڑی مشاقی سے انجام دے رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان کا موقف یہ ہے کہ تمام سیاسی، اقتصادی اور سماجی امور میں، اسلام کو مرکزی حیثیت حاصل ہے ۔

وہ کہتےہیں’’قاہرہ کے اس محلے کی بیشتر آبادی محنت کشوں پر مشتمل ہے ۔ وہ یہاں یہ پیغام دہرا رہے ہیں کہ اسلام زندگی کے ہر پہلو کا احاطہ کرتا ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ بعض لوگ سوچتے ہوں کہ اگر ذکی کی پارٹی بر سرِ اقتدار آگئی تو یہ عورتوں اور اقلیتوں کے حق میں اچھا نہیں ہو گا۔ لیکن یہاں اس جلسے میں ان کے ساتھ ایک خاتون کمیونٹی آرگنائزر اور محلے کے عیسائی پادری بھی موجود ہیں۔‘‘

وہ اپنے خیر مقدمی کلمات میں پادری کو مخاطب کرتے ہوئے کہتےہیں کہ آپ کا چرچ ہمارے لیے اتنا ہی مقدس ہے جتنی ہماری مسجدیں۔ اور پھر اسلام کی بالا دستی اور عرب موسم بہار کے حوالے سے، مغربی دنیا کے اندیشوں کا جواب دینے کی غرض سے، ذکی ، سامنے کی قطار میں بیٹھے ہوئے غیر ملکی میڈیا کو اپنا وسعت نظری کا پیغام انگریزی زبان میں دیتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں’’ہماری اولین ترجیح، ہماری پارٹی کی میٹنگوں میں یہی ہوتی ہے کہ ہم ملک کی تعمیر کس طرح کر سکتے ہیں، ہم مصر کے لوگوں کو ترقی کی راہ پر کس طرح ڈال سکتے ہیں۔‘‘

ذکی ، شہری منصوبہ بندی کے ماہر ہیں اور ان کا کاروبار ملک کے باہر بھی ہے ۔ ان کا پروگرام یہاں کے لوگوں کے لیے پُر کشش ہے یعنی درمیانے طبقے کی خوشحالی۔ وہ مکانات ، صنعتی مراکز، نئے ہسپتالوں کی تعمیر کا خاکہ پیش کرتے ہیں اور اس کے ساتھ مذہب سے گہری وابستگی ۔ ان تنگ، پُر ہجوم گلیوں میں رہنے والوں کو یہ پروگرام پسند ہے ۔

انگلش کے ٹیچر وائل لوفتی اخوان المسلمین کے حامی ہیں۔ وہ کہتےہیں’’یہ لوگ بہت اعتدال پسند ہیں اور یہ تمام رجحانات اور معاشرے کے تمام گروپوں کو قبول کر سکتے ہیں۔ اور انکا پروگرام بہت اچھا ہے۔‘‘

سوال یہ ہے کہ کیا وہ اپنے اس موقف پر قائم رہیں گے؟ سیاسی تجزیہ کار ہشام قاسم کہتے ہیں کہ بیشتر سیاسی حلقوں کا خیال ہے کہ ایسا نہیں ہوگا۔’’ماضی میں، مبارک کے مخالفین، جن میں ، میں بھی شامل ہوں، اخوان پر بھروسہ نہیں کرتے تھے کیوں کہ ان کا ریکارڈ یہ تھا کہ وہ اپنے وعدے پر قائم نہیں رہتے تھے ۔ ایک بار انہیں اقتدار مل جائے تو ان کا ڈھنگ، اور مذاکرات میں ان کا رویہ، بالکل بدل جاتا ہے۔‘‘

حالیہ دنوں میں اخوان پر ایک بار پھر موقع پرستی کا الزام لگایا گیا ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ انھوں نے ملٹری کونسل سے جو معاملہ کیا ہے اس سے تحریر اسکوائر پر احتجاج کرنے والوں کو نقصان پہنچا ہے ۔ زکی اس الزام کو مسترد کرتے ہیں۔’’ہمارے اور فوج کے درمیان کوئی گٹھ جوڑ نہیں ہے۔ یہ بات صحیح نہیں ہے۔‘‘

اور اگرچہ اخوان المسلمین مظاہروں کے تازہ ترین راؤنڈ سے بڑی حد تک دور رہے ہیں، لیکن ذکی احتجاجیوں کے لیے حمایت کا اظہار کرتےہیں۔’’میں نے اس معاملے پر اچھی طرح غور کیا ہے اور میں تحریر اسکوائر میں ان کی کوششوں کی قدر کرتا ہوں۔ وہ جانتے ہیں کہ اخوان المسلمین کی کوششیں صحیح سمت میں ہوں گی۔‘‘

تجزیہ کار اور پبلشر قاسم کہتے ہیں کہ اخوان نے اتنے زیادہ وعدے کر لیے ہیں کہ ان کی طاقت تحلیل ہو گئی ہے ۔’’میں نہیں سمجھتا کہ انتخابات میں اخوان کی کارکردگی بہت اچھی ہوگی ۔ پارٹی کی حیثیت سے انہیں زیادہ نشستیں ضرور ملیں گی لیکن اتنی نہیں کہ وہ حکومت بنا سکیں، اور ان کے ساتھ کوئی بھی مخلوط حکومت بنانے پر تیار نہیں ہو گا۔‘‘

لیکن قاسم اور ذکی دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ آگے بڑھنے کے لیے انتخابات نا گزیر ہیں۔ ’’ انتخابات ہمارے ملک کے لیے اچھا موقع ہیں۔ ہمیں انتخابات مکمل کرنے چاہئیں۔ ہمیں اپنی تاریخ کا یہ باب مکمل کرنا چاہیئے۔‘‘

اخوان المسلمین کا مستقبل چاہے کچھ ہی کیوں نہ ہو، زکی نے اس انتخابی عمل کی روح کو گلے لگا لیا ہے ۔

XS
SM
MD
LG