رسائی کے لنکس

جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی کا فروغ سخت گیر حکومتوں کے لیے نیا چیلنج


جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی کا فروغ سخت گیر حکومتوں کے لیے نیا چیلنج

جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی کا فروغ سخت گیر حکومتوں کے لیے نیا چیلنج

مصر کی حکومت نے بڑے پیمانے پر مظاہروں کے ملک میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو بند کرنے کے لیے سخت اقدامات کیے تاکہ مظاہرین، انٹرنیٹ اور موبائل فونز کو احتجاج منظم کرنے کے لیے استعمال نہ کرسکیں۔ قاہرہ کی سڑکیں اُس وقت تک الجزیرہ ٹیلیویژن نیٹ ورک پر براہِ راست نظر آ رہی تھیں جب تک مصر کی حکومت نے اس کا سٹلائٹ جام نہیں کیا تھا۔ اطلاعات کے جدید طریقے حکومت مخالف مظاہروں میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

فی الحال الجزیرہ پورٹیبل یعنی سفری سٹلائٹ ٹیکنالوجی کے ذریعے قاہرہ کی براہِ راست کوریج دے رہا ہے۔ الجزیرہ انگلش کے واشنگٹن بیورو میں نیوز اینکر مصر میں اپنے نمائندوں کے نام اور یہ بتائے بغیر کہ وہ کس جگہ موجود ہیں ان کا تعارف کرواتے ہیں۔ ایسا کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اِن میں سے کچھ نمائندوں کے پریس کارڈ کھو چکے ہیں اور کچھ نمائندوں کو مصر ی حکومت نے قید کر دیا ہے۔ قاہرہ سے نشریات کے لیے الجزیرہ کا لائسنس منسوخ کر دیا گیا ہے اور وہاں کا بیورو بند ہے۔ یہ سب مصر کی حکومت نے گزشتہ ہفتے کے اختتام پر کیا۔

الجزیرہ انگلش کے واشنگٹن بیورو کے ایگزیکٹو پروڈیسر نِک ٹوکس وگ کہتے ہیں کہ چاہے دنیا کا کوئی بھی حصہ ہو، اگر وہاں کے حکمران معلومات کو کنٹرول کرنا چاہتے ہوں تو کوئی بھی ذریعہ جو ایسی اطلاعات دیتا ہے جووہ نہیں دینا چاہتے تو معلومات دینے والے پریشان ہوں گے۔

جارج واشنگٹن یونیورسٹی کے پروفیسر اسٹیون لیونگ سٹون مصر سے ٹویٹر پر آنے والے پیغامات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ لوگ اپنے موبائل فونز کے ذریعے ٹویٹ کر رہے ہیں۔ لوگوں نے سمارٹ فونز کے ذریعے مظاہروں کی جگہوں کا نتخاب کیا اور ایک دوسرے کو پولیس کی موجودگی سے خبردار کیا۔

اس ہفتے موبائل سروس پر بھی نظر رکھی گئی ہے۔ گوگل نے ایک نیا سلسلہ Speak to Tweet شروع کیا ہے۔ مصر کے لوگ فون کر کے Voice message چھوڑ سکتے ہیں جو ٹویٹر فیڈز پر شائع کر دیا جائے گا۔

ایک شخص نے اپنا نام ایہاد بتایا اور اس سروس پر یہ پیغام دیا کہ ہم یعنی مصر کے عوام ساڑھے آٹھ کروڑ ہیں۔ ہم اس آدمی کا مقابلہ کریں گے۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ مصر سے چلا جائے۔

لیونگ سٹون کہتے ہیں کہ ڈیجٹل ٹیکنالوجی کوزیادہ وقت تک بلاک نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اگر کاروباری افراد اپنے موبائل فونز استعمال نہ کر سکے تو کچھ دنوں کے بعد یہ پابندی مصر کو عالمی معیشت سے ملانے کے راستے میں رکاوٹ بن جائے گی۔

وہ کہتے ہیں کہ مظاہرین انٹرنٹ کی ایک سہولت Event Mapping سے مدد لیتے ہیں۔ اس سروس میں نقشے پر لال نشان لگے ہوتے ہیں جس سے یہ پتا چلتا ہے کہ کسی خاص جگہ کیا ہو رہا ہے اور لوگ ان معلومات کو دیکھ کر درست جگہ پہنچتے ہیں۔ اگر اس جگہ کسی چیر کی ضرورت ہو تو عام لوگ ہی ایک دوسرے کی مدد کے ذریعے اس ضرورت کو پورا کر لیتے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ نچلی سطح کے رابطوں میں سرکاری مدد شامل نہیں اور اس کا کوئی لیڈر بھی نہیں ہے۔

مصر کی تحریک مکمل طورپر عام لوگوں کی طرف سے چلائی گئی تحریک ہے جو معلومات کے جدید ذرائع استعمال کر کے ملک کی سخت گیر حکومت کو مشکل میں ڈال رہی ہے۔

پروفیسر لیونگ سٹون کہتے ہیں کہ ماہرین نئی ٹیکنالوجی کے مستقبل اور عوام کو دبانے والی حکومتوں پر اس کے اثرات کے بارے میں مختلف رائے رکھتے ہیں۔ کچھ سمجھتے ہیں کہ اس طرح کی ٹیکنالوجی لوگوں کو آزادی دلائے گی۔ جبکہ کچھ کے خیال میں اس سے حکمرانوں کو مدد ملے گی کہ وہ اپوزیشن کو ڈھونڈ کر انہیں دبا سکیں۔

XS
SM
MD
LG