رسائی کے لنکس

مصرغزہ کی پٹی کا سرحدی راستہ عارضی طورپر کھول رہاہے


غزہ کی پٹی کی سرحدی گذرگاہ، رفاہ

غزہ کی پٹی کی سرحدی گذرگاہ، رفاہ

مصر انسانی ہمدردی کی امداد علاقے میں پہنچانے کے لیے غزہ کی پٹی کے ساتھ اپنی سرحد عارضی طورپر کھول رہاہے۔

صدر حسنی مبارک نے غزہ کی پٹی کی سرحدی گذرگاہ رفاہ کو کھولنے کا حکم منگل کو اس کے ایک روز بعد دیا جب اسرائیلی کمانڈوز نے غزہ کو جانے والے امدادی بحری قافلے پر بین الاقوامی پانیوں میں حملہ کرکے فلسطینیوں کے حامی کم ازکم نو سرگرم کارکنوں کو ہلاک کردیا۔

چھ بحری جہازوں پر مشتمل وہ بحری قافلہ ، تین سالہ اسرائیلی ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرتےہوئے غزہ میں دس ہزار ٹن امدادی سامان پہنچانے کی کوشش کررہا تھا۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے منگل کی صبح اس معاملے کے بارے میں ایک غیر جانب دارانہ اور شفاف چھان بین کے لیے کہا ۔

سلامتی کونسل کے 15 ارکان اس ہنگامی اجلاس میں کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی گفت وشنید کے بعد ایک بیان پر متفق ہوئے جس میں کارروائیوں کا نام لے کر ذکر کیے بغیر انکی مذمت کی گئی جن کے نتیجے میں ہلاکتیں واقع ہوئیں تھیں۔

سلامتی کونسل نے اسرائیل سے یہ درخواست بھی کی کہ وہ بحری جہازوں اور ان شہریوں کو فوری طورپر رہا کردے جنہیں اس نے پکڑ رکھا ہے۔

اسرائیلی عہدے داروں نے کہاہے کہ بحری جہازوں پر سوار 50 سرگرم کارکنوں کے ان کے ملکوں میں واپس بھیجنے کے لیے ہوائی اڈےپر پہنچایا جاچکاہے۔

ان کا کہنا ہے کہ دوسرے کارکنوں نے وطن واپسی سے انکار کردیا ہے اور وہ مسلسل حراست میں رہیں گے۔ اسرائیل نے سرگرم کارکنوں تک رسائی کی اجازت نہیں دی ہے۔

فلسطینیوں کے حامی سرگرم کارکنوں نے کہاہے کہ وہ غزہ کی اسرائیلی ناکہ بندی توڑنے کی ایک اور کوشش کریں گے۔ خبررساں ادارے رائٹر نے سرگرم کارکنوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ ریچل کوری مال بردار بحری جہاز پیر کے روز مالٹا سے روانہ ہواتھا۔

اسرائیل کہہ چکاہے کہ اس کے کمانڈوز نے سرگرم کارکنوں کی جانب سے خود پر چاقوؤں، پائپوں اور بندوقوں سے حملے کے بعد فائرکھولاتھا۔ لیکن ترکی کے وزیر خارجہ احمد داؤد اوغلو نے اس کارروائی کو ایک ایسا قتل قرار دیا جس کا ارتکاب کسی ریاست نے کیا ہے۔

XS
SM
MD
LG