رسائی کے لنکس

مصر کی عوامی تحریک اور پاکستان


مصر کی عوامی تحریک اور پاکستان

مصر کی عوامی تحریک اور پاکستان

وینڈی چیمبر لین کہتی ہیں کہ مصر کی صورتحال پاکستان سے مختلف ہے، جہاں 2008ء کے انتخابات میں لوگوں کو اپنی حکومت خود چننے کا موقعہ ملا تھا ۔ بروس رائیڈل کا کہنا ہے کہ پاکستان تین سال پہلے ایسا ہی ایک عوامی انقلاب اپنے ملک میں دیکھ چکا ہے ۔

مصر میں رونما ہونے والی عوامی تحریک کی حالیہ بڑھی لہر کا آغاز تو تیونس سے ہوا تھا مگر اب یہ لہر نہ صرف دوسرے کئی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔ بلکہ اس کی گونج پوری دنیا میں سنائی دے رہی ہے۔ مصر میں آنے والی اس تبدیلی کو انسانی آزادیوں پر پابندیوں کا نتیجہ قرار دیا جانا چاہئے ، یا30 سالہ آمریت سے قائم استحکام کی بھاری قیمت ؟ اور کیا یہ تبدیلی پاکستان تک بھی پہنچ سکتی ہے ۔

براک اوباما نے صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد اسلامی دنیا سے اپنے خطاب کے لیے مصر کی جامع الازہر یونیورسٹی کا نتخاب کیا تھا۔ یہ واقعہ ڈیڑھ سال پہلے کا ہے ۔ امریکہ کے پہلے سیاہ فام صدر نے مسلمان دنیا سے تعلقات میں مثبت تبدیلی کے لیے دریائے نیل کے کنارے آباد قاہرہ کے تاریخی شہر کا انتخاب ، جس نے صدیوں سے فراعین کے اہرام بنتے، بگڑتے اور پھر انہیں سیاحت کا مرکز بنتے دیکھا تھا، بلاسبب نہیں تھا۔

25 جنوری 2011ء کو اسی دریا نے مصری بادشاہوں کے تاریخی مقبروں کے درمیان ایک لاکھ 60 ہزار سے زائدزندہ انسانوں کو سالہا سال کی نیند سے جاگتے ہوئے دیکھا ۔

مشرق وسطی کے لئے امریکہ کی نائب معاون وزیر خارجہ تمارا کاف مین نے مئی 2010ء میں ہی کہہ دیا تھا کہ ایک تبدیلی پوری عرب دنیا کے دروازے پر دستک دے رہی ہے ۔

انہوں نے کہا تھا کہ عرب دنیا کے ہر ملک میں لوگ آواز بلند کر رہے ہیں کہ انہیں کیسی تبدیلی چاہئے اوروہ اپنے آپ کو اس تبدیلی کے لئے منظم کر رہے ہیں ۔ مجھے مشرق وسطی کے مستقبل اور شہری آزادیوں کے لئے جو امید نطر آتی ہے وہ اس کی سول سوسائٹی اور نوجوان آبادی ہے ۔ عرب دنیا کی آدھی سے زیادہ آبادی 30 سال سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے ۔ جنہیں جلدی ہے ، جو دنیا سے رابطے میں ہیں اور جانتے ہیں کہ دوسرے ملک اپنی معیشتوں اور معاشروں کو ترقی اور جمہوریت دینے کے لئے کیا کر رہے ہیں اور انہیں اپنے لئے بھی یہی چاہئے ۔

اسی مطالبے کو لے کر تیونس سے ابھرنے والے احتجاج نے مصر کے التحریر اسکوائر میں تبدیلی کی وہ تاریخ لکھی ہے جس کی مثال ماہرین کے مطابق پوری عرب دنیا میں کہیں موجود نہیں ۔

تجزیہ کار بروس رئیڈل کہتے ہیں کہ مصر میں جو ہوا ہے وہ ایک انقلاب ہے ۔ ہم نے تیونس کے سوا کہیں اور ایسا ہوتے نہیں دیکھا ۔ تیونس میں اس کا آغاز جیسمین ریوولوشن سے ہوا ، جو عرب سیاست میں ایک زلزلہ تھا ۔ کسی عرب آمر کا تختہ آج تک کبھی عام لوگ نہیں الٹ سکے ۔ اب ایک جا چکا ہے اور دوسرا لڑ کھڑا رہا ہے ۔

اور یہ وہی زلزلہ ہے، جس کے آفٹر شاکس کے بارے میں ابھی ماہرین کسی قسم کی پیش گوئی نہیں کرنا چاہتے ، مگر وہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ مصر میں امریکہ کا بہت کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے ۔

بروس رائیڈل کہتے ہیں کہ نہر سوئیز اور مصری فضائی حدود کی راہداری امریکہ کی عراق اور افغانستان میں جاری جنگوں کے لئے انتہائی اہم ہے ۔ اور حسنی مبارک ایک ایسے دوست ہیں ، جنہیں سرد مہری سے ایک طرف نہیں کیا جا سکتا ۔ صدر اوباما کو اس صورتحال سے بے حد احتیاط سے نمٹنے کی ضرورت ہے کہ وہ تاریخ کے دھارے کے بر خلاف بھی نہ جائیں اور ایسا بھی نہ لگے کہ انہیں امریکہ کے 30 سال پرانے دوست کی کوئی پروا نہیں رہی ۔

امریکہ کی سابق سفیر وینڈی چیمبر لین کا کہنا ہے کہ مصر میں آنے والی تبدیلی امریکہ نے برپا نہیں کی مگر وہ ہمیشہ سے مصر اور عرب دنیا میں انسانی آزادیوں اور اصلاحات کا حامی رہا ہے ۔

چیمبر لین کہتی ہیں کہ وہ لوگ جو صدر اوباما اور امریکہ پر مصری عوام کی حمایت کے لئے زیادہ ٕمضبوط آواز نہ اٹھانے کا الزام عائد کرتے ہیں ،انہیں سمجھنا چاہئے کہ امریکہ صورتحال میں غیر ضروری مداخلت نہیں کرنا چاہتا ۔ یہ کوئی میڈ ان امریکہ انقلاب نہیں ہے ۔ اور میرے خیال میں ہیلری کلنٹن اور صدر اوباما نے متوازن طریقے سے انتقال اقتدار کی بات کی ہے ، لیکن یہ فیصلہ مصر کے عوام کا ہی ہونا چاہئے۔

اوباما انتطامیہ کے مشاورتکار بروس رائیڈل کے مطابق مصر میں آنے والی تبدیلی کے اثرات صرف عرب نہیں ، پوری اسلامی دنیا میں آنے والے کئی برسوں تک محسوس کئے جاتے رہیں گے ۔لیکن سینٹر فار امیرکن پراگریس کے برائین کیٹولس کے مطابق اردن اور سعودی عرب جیسے ملکوں میں ایسی تبدیلی کے لئےحالات تیار نہیں ہوئے ۔

سینٹر فار امریکن پراگرس کے برائین کیٹلس کہتے ہیں کہ ان تما م ملکوں کے اپنے اپنے حالات ہیں ۔ میرے خیال میں مصر کے پاس سعودی عرب سے کم وسائل ہیں ۔ اس کی آبادی اردن سے کم ہے اس کی صورتحال خطے کے دوسرے ملکوں سے کہیں پیچیدہ تھی۔ اردن ایک چھوٹا ملک ہے جس کے بادشاہ کے لئے کابینہ میں تبدیلی کر کے صورتحال سنبھالنی آسان ہے ۔ سعودی عرب ایک بےحد مضبوط پولیس سٹیٹ ہے جہاں صورتحال پر حکومت کا سخت کنٹرول ہے ۔ مصر میں سالہا سال سے ایک جبری قسم کی حکومت کے باوجود نسبتا آزادسول سوسائٹی موجود تھی مجھے نہیں لگتا کہ اردن یا سعودی عرب میں تبدیلی کی اتنی مضبوط تحریک اٹھ سکتی ہے جیسی ہم نے مصر میں دیکھی ہے ۔

لیکن کیا تبدیلی کی یہ لہر پاکستان تک بھی پہنچ سکتی ہے ؟ اس سوال پر پاکستان میں ہی نہیں ، واشنگٹن میں بھی بات ہو رہی ہے ۔

وینڈی چیمبر لین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال پاکستان سے مختلف ہے، جہاں 2008ء کے انتخابات میں لوگوں کو اپنی حکومت خود چننے کا موقعہ ملا تھا ۔ شاید وہ اس حکومت کو ہر حوالے سے پسند نہ کرتے ہوں مگر وہ ان کے اپنے منتخب نمائندے ہیں۔ مصر کے عوام کو 30 سال انتظار کرنا پڑا۔ مگر ملک کی اعلی قیادت تبدیل نہیں ہوئی۔ اسی لوگ وہ باہر نکلے ۔

بروس رائیڈل کا کہنا ہے کہ پاکستان تین سال پہلے ایسا ہی ایک عوامی انقلاب اپنے ملک میں دیکھ چکا ہے ۔

وہ کہتے ہیں کہ پاکستان نے ابھی دو تین سال پہلے ایک آمر کی حکومت وکلاء اور عوام کے احتجاج کے نتیجے میں گرتے ہوئے دیکھی ہے۔ پاکستان میں انتخابات کی تاریخ موجود ہے ،موجودہ پاکستانی حکومت اپنی تمام تر کمزوریوں کے باوجود شاید پہلی پاکستانی حکومت ہوگی جواپنی میعاد پوری کرے گی ۔ یہ کوئی معمولی کامیابی نہیں ہے ۔ لیکن ہمیں پاکستانی حکومت کو اپنی جمہوری عمل کو مضبوط کرتے رہنے پرزور دیتے رہنا چاہئے ۔

مصر میں آنے والی تبدیلی کتنی جمہوری ہوگی ، یہ واضح ہونے میں ابھی کچھ وقت لگے گا لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی کے بعد بننے والی کسی بھی حکومت کا پہلا کام ان معاشی نا ہمواریوں پر توجہ دینا ہو ہوگا ، جس نے مصری عوام کے صبرکا پیمانہ لبریز کر دیا ہے ۔۔وہی معاشی ناہمواریاں جو ترقی پذیر اور غریب ملکوں میں رہنے والے لاکھوں کروڑوں نوجوانوں کے دل میں اپنے اپنے نظام کے خلاف نفرت پیدا کر رہی ہیں ۔

XS
SM
MD
LG