رسائی کے لنکس

مصر میں صدارتی انتخابات اب صرف ایک ماہ کی دوری پر رہ گئے ہیں۔ یہ وہاں پر صدر حسنی مبارک کے طویل دور اقتدار کے بعد پہلےباضابطہ انتخابات ہوں گے۔
مصر کے انتخابات میں تین صدارتی امیدواروں کو تکنیکی بنیادوں پر نااہل قرار دیا گیاہے۔ نااہل قرار دیئے جانے والے امیدوارحازم صلاح ابو اسماعیل کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ان کے لیڈر پر پابندی انہیں ووٹ ڈالنے سے روکنے کے مترادف ہے۔

بہت سے ووٹرز کے نزدیک ۔۔۔ ابو اسماعیل،مصر کے خفیہ ادارے کےسابق سربراہ عمر سلیمان اور اخوان المسلمین کے خیرت ال شتر پر صدارتی انتخابات میں پابندی کا مقصد ،مصر پر حکومت کرنے والی فوجی حکومت کی جانب سے امر موسیٰ کے حق میں راہ ہموار اور اسلام پسند ووٹوں کو تقسیم کرنا ہے۔
لیکن مصر میں تمام لوگ ان فیصلوں کے مخالف نہیں ہیں۔

مصر کے ایک سیاسی تجزیہ کار ہشام قاسم کہتے ہیں کہ مصر اس وقت اندرونی تناؤ اور سازشوں کا شکار ہے۔ لیکن جس طرح الیکشن کمیٹی کام کر رہی ہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ ہمارے انتخابی نظام میں خامیاں ہیں جنہیں درست ہونا چاہئے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ مصر میں اسلام پسند حامیوں کا ووٹ اب اخوان المسلمین کی جانب سے نامزد امیدوار محمد مصری اور اسی جماعت کے سابق امیدوار عبدالمنعم ابوالفتاح کے درمیان تقسیم ہوں گے۔ جبکہ ترقی پسند ووٹ امر موسیٰ کو جا سکتے ہیں۔

ماہرین کہتے ہیں کہ یہ مصر کی تاریخ کے پہلے باضابطہ صدارتی انتخابات ہوں گے۔

قاسم کہتے ہیں کہ آخر میں معاملہ ذاتی پسند و ناپسند کا ہوگا۔ اگر آپ کا کوئی کامیاب جلسہ ہوا ہے تو یکدم آپ کے حق میں ووٹوں کا تناسب بڑھ سکتاہے اور کسی دوسری جماعت کے کامیاب جلسے سے کم بھی ہو سکتاہے۔

قاسم کا کہناہے کہ مصر کی تاریخ میں آئندہ آنے والے چند ہفتے بہت اہم ہیں۔ اور ابھی اس حوالے سے کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ انتخابات کون جیتے گا۔

XS
SM
MD
LG