رسائی کے لنکس

محمد مرسی نے جمہوری انداز میں ملک کا پہلا سویلین صدر منتخب ہونے کے بعد اپنی حکومت بنانے کا کام شروع کردیاہے اور انہوں نے ایک جامع حکومت قائم کرنے کے عزم کااظہار کیا ہے۔

اتوار کے روزاپنے حریف اور سابق وزیر اعظم احمد شفیق پر سبقت حاصل کرنے کے بعد مسٹر مرسی اب اپنی توجہ سویلین انتظامیہ بنانے پر مرکوز کیے ہوئے ہیں جس میں ان کے وعدے کے مطابق مختلف طبقات کے نائب صدور شامل ہوں گے۔

اسلام پسند منتخب صدر کو منقسم قوم اور تمام مصریوں کو جن میں مذہبی اقلیتیں اور خواتین بھی شامل ہیں، یہ یقین دلانےکے مشکل مرحلے کا سامنا ہے کہ ان سب کے مفادات کا یکساں طورپر تحفظ کیاجائے گا۔

دوسری سیاسی جماعتوں کوایک مثبت تاثر دینے کے لیے ، جن کے ساتھ انہیں اپنی اتحادی حکومت کے قیام کی توقع ہے، مسٹر مرسی اپنی جماعت اخوان المسلیمین اور فریڈیم اینڈ جسٹس پارٹی سے پہلے ہی مستعفی ہوچکے ہیں۔

لیکن یہ سوال اب بھی اپنی جگہ برقرار ہے کہ انقلاب مصر کے بعد منتخب ہونے والے صدر کے پاس کتنے اختیارات ہوں گے، اگرچہ فوجی کونسل یہ کہہ چکی ہے کہ وہ جون کے آخرتک اختیارات نئے صدر کو منتقل کردے گی۔

مصر کی حکمران فوجی کونسل اپنے حالیہ اقدامات کے ذریعے زیادہ تر اختیارات خود حاصل کرچکی ہے۔

فوجی کونسل نے اہم انتظامی اختیارات اپنے ہاتھ میں لینے کے ساتھ ساتھ اس ماہ کے شروع میں پارلیمنٹ کے ایوان زیر کی تحلیل کے بعد، جس میں اکثریت اخوان المسلمین کی تھی، قانون سازی کے امور کا کنٹرول بھی خود سنبھال چکی ہے۔

اخوان المسلیمین فوجی کونسل کے اقدامات کو مسترد کرچکی ہے اور مسٹر مرسی کے حامی ا س عزم کا اظہار کرچکے ہیں کہ جب تک صدر اور قانون سازوں کے اختیارات بحال نہیں کیے جاتے وہ قاہرہ کے تحریر چوک میں اپنا قیام جاری رکھیں گے۔

XS
SM
MD
LG