رسائی کے لنکس

مصر کے ہزاروں قبطی عیسائیوں نے منگل کو اپنے روحانی پیشوا پوپ شینودا سوم آخری رسومات میں شرکت کی جو ہفتے کو 88 برس کی عمر میں انتقال کرگئے تھے۔

پوپ کی آخری رسومات دارالحکومت قاہرہ کے سینٹ مارک گرجا گھر میں ادا کی گئیں جس میں مصر کی حکمران فوجی کونسل کے نمائندوں اور سرگرم سیاسی رہنما بھی شریک ہوئے۔

سنہری تاج اور پوپ کے روایتی چوغے میں ملبوس آنجہانی رہنما کی لاش ایک کھلے تابوت میں رکھی گئی تھی جس پر پادریوں نے دعائیہ کلمات ادا کیے۔ اس موقع پر رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے۔

پادری شنودا نے چار دہائیوں سے زائد عرصہ مصر کے قبطی عیسائیوں کی رہنمائی کے فرائض انجام دیے جو مصر کی آٹھ کروڑ کی آبادی کا لگ بھگ 10 فی صد ہیں۔

تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ مصر کے قبطی عیسائیت کا تعلق دنیا میں عیسائیوں کے قدیم ترین فرقوں میں سے ہے۔ تاریخ دان اس فرقے کی ابتدا حضرت عیسیٰ کے حواری مارک سے جوڑتے ہیں جنہوں نے پہلی صدی عیسوی میں مصر میں عیسائیت متعارف کرائی تھی۔

پوپ شنودا نے مسلم انتہاپسندوں سے نبٹنے میں ناکامی اور اسرائیل کے ساتھ کیمپ ڈیوڈ معاہدہ کرنے پر مصر کے سابق صدر انوار السادات کی حکومت پہ کڑی تنقید کی تھی جس کی پاداش میں السادات حکومت نے انہیں 1981ء میں شہر بدر کرکے مصر کے ایک دور دراز صحرائی علاقے بھیج دیا تھا۔

سابق صدر حسنی مبارک نے اقتدار سنبھالنے کے بعد 1985ء میں شنودا کی جلاوطنی ختم کرکے انہیں وطن واپس آنے کی اجازت دی تھی۔

XS
SM
MD
LG