رسائی کے لنکس

مصر میں ووٹر 23 اور 24 مئی کو ملک کے نئے صدر کو منتخب کرنے کے لیے پولنگ سٹیشنوں کا رخ کریں گے۔اس تاریخی الیکشن سے پہلے ملک سے باہر رہنے والے مصری شہریوں کو قونصل خانوں یا سفارت خانوں میں جا کر اپنا ووٹ ڈالیں کی اجازت دی گئی ہے۔

واشنگٹن میں اپنے دفتر کے باہر نہال الوان ایک ایسا کام کرنے جا رہی ہیں جو انہوں نے پہلے کبھی نہیں کیا تھا۔ وہ اپنے آبائی ملک مصر کے صدر کو منتخب کرنے کے لیے ووٹ ڈال رہی ہیں۔ انہیں 13 امیدواروں میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہے جس میں قدامت پسند اور آزاد خیال امیدواروں کے علاوہ مصر کی سابق انتظامیہ کے اہلکار بھی شامل ہیں ۔ بیلٹ پیپر پر سب امیدواروں کے نام چھاپے گئے ہیں اور جنہیں پڑھنا نہیں آتا ان کی مدد کے لیے امیدواروں کے انتخابی نشان بھی دیے گئے ہیں۔

گزشتہ سال مصر میں تبدیلیوں کا سال تھا، جب عوام نے کئی دہائیوں تک اپنے ملک کا عہدہ صدارت اپنے پاس رکھنے والے حسنی مبارک کوزبردست احتجاج کے ذریعے اقتدار سے الگ کر دیا تھا۔ اس کے بعد سے مصر کا انتظام فوج کی عبوری حکومت کے پاس ہے ۔ شاکری امریکہ میں مصر کے سفیر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ نئے صدر کو ملک میں استحکام لانا ہو گا۔

ان کا کہناہے کہ انہیں ایک ربط کے ساتھ تبدیلی لانی ہو گی تاکہ ایک نئے مصر کی بنیاد ڈالی جائے۔ مجھے یقین ہے کہ نہ صرف صدر بلکہ انتظامیہ کے تمام ادارے اس مقصد کے لیے کام کریں گے۔

الیکشن کی ویب سائٹ پر 27000 سے زائد مصری تارکینِ وطن کے ووٹ رجسٹر ڈ ہیں۔ ان میں سے اب تک نصف سے زائد افراد نے ووٹ کا حق استعمال کیاہے ، جبکہ واشنگٹن میں تین ہزار سے زائد لوگوں نے ووٹ ڈالےہیں ۔

الوان بھی ووٹ ڈالنے کے لیے سفارت خانے پہنچیں ۔ ان کی شناخت چیک کی گئی۔ جس کے بعد انہوں نے اپنا بیلٹ 7 نمبر کے پلاسٹک کے ڈبے میں ڈالا۔ سمندر پار مصریوں کے لیے ووٹنگ سات دن تک جاری رہی۔ بہت سے لوگ آزادیِ اظہارِ رائے کا حق ملنے پر پُر جوش ہیں۔

کچھ لوگوں نے بیلٹ کے لفافے پر الیکشن کے بارے میں اپنے تاثرات لکھے۔ اس سے ان کا ووٹ منسوخ نہیں ہو گا لیکن ان کا پیغام پہنچ جائے گا۔ اس لفافے پر لکھا ہے ۔ فوجی حکومت مردہ باد، قربانیاں دینے والے زندہ باد۔

اگر اس ہفتے کی ووٹنگ کے بعد مصر میں کوئی ایک امیدوار واضح برتری حاصل نہ کر سکا تواس سال جون میں انتخابات کا دوسرا مرحلہ ہوگا۔

XS
SM
MD
LG