رسائی کے لنکس

حکام نے پیر کو علی الصبح ان کیمپوں کے خلاف کارروائی کا اشارہ دیا تھا لیکن دوپہر تک سکیورٹی فورسز کی یہاں کوئی کارروائی دیکھنے میں نہیں آئی۔

مصرکی حکومت کی طرف سے شدید ردعمل کے انتباہ کے باوجود برطرف کیے گئے صدر محمد مرسی کے حامیوں کے قاہرہ میں مظاہرے بدستور جاری ہیں۔

مظاہرین قاہرہ میں قائم ہفتوں سے دو کیمپوں کو تین جولائی کے فوجی اقدام کے خلاف تقاریر کے لیے استعمال کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ محمد مرسی کی اپنے عہدے پر بحالی تک ان کا احتجاج جاری رہے گا۔

مغربی اور عرب مذاکرات کاروں کے علاوہ مصر کی حکومت کے بعض سینیئر ارکان فوج کی طرف سے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کے استعمال سے گریز کا مشورہ دیتے آئے ہیں تاکہ کسی بھی نئے ’خون خرابے‘ سے بچا جاسکے۔

حکام نے پیر کو علی الصبح ان کیمپوں کے خلاف کارروائی کا اشارہ دیا تھا لیکن دوپہر تک سکیورٹی فورسز کی یہاں کوئی کارروائی دیکھنے میں نہیں آئی۔

مصر کی عبوری حکومت کے رہنماؤں نے متعدد بار متنبہ کیا تھا کہ سکیورٹی فورسز مظاہرین کے دھرنوں کو ختم کرنے کے لیے عید الفطر کے بعد کسی بھی وقت کارروائی کر سکتی ہیں۔


سیکورٹی اہلکاروں کی جانب سے ممکنہ کارروائی کے پیش نظر مظاہرین نے اپنے کیمپوں کے باہر رکاوٹیں کھڑی کر کے اپنی پوزیشنز مستحکم کرنا شروع کردی ہیں۔

مصر میں فوج نے تین جولائی کو صدر محمد مرسی کو برطرف کر کے اپنی تحویل میں لے لیا تھا اور ملک میں اعلیٰ ترین آئینی عدالت کے چیف جسٹس عدلی منصور کو عبوری صدر مقرر کیا تھا۔

اس اقدام کے بعد سے مرسی کی حامی جماعت اخوان المسلمین سراپا احتجاج ہے۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں اب تک درجنوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
XS
SM
MD
LG