رسائی کے لنکس

مصری حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ برطرف صدر محمد مرسی کے حامیوں کی جانب سے جمعہ کو ملک گیر احتجاجی مظاہروں کے آغاز کے بعد سے 173 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں سکیورٹی فورسز نے اُس مسجد کے اطراف میں فائرنگ شروع کر دی ہے جہاں سینکڑوں مظاہرین نے پناہ لے رکھی ہے۔

اس مقام کے ویڈیو مناظر میں الفتح مسجد میں موجود افراد اپنی حفاظت کے لیے ادھر ادھر بھافتے دیکھائی دیے۔

مظاہرین جمعہ کو ہونے والے احتجاج کے بعد کئی گھنٹوں سے اس مسجد میں محصور ہیں۔

اس سے قبل پولیس نے خواتین کو مسجد سے نکلنے کی پیشکش کی جب کہ مردوں سے پوچھ گچھ پر روز دیا تھا۔ لیکن مظاہرین کے انکار پر صورتِ حال سنگین ہو گئی۔

مصری حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ برطرف صدر محمد مرسی کے حامیوں کی جانب سے جمعہ کو ملک گیر احتجاجی مظاہروں کے آغاز کے بعد سے 173 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

جمعہ کو مصر کے مختلف شہروں بشمول قاہرہ میں افراتفری کا ماحول رہا کیوں کہ مسٹر مرسی کے حامیوں نے نمازِ جمعہ کے بعد ’’یومِ غضب‘ کے سلسلے میں اجتماعات منعقد کیے۔

ان مظاہروں کی وجہ سے مرسی کے حامیوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جب کہ مسلح شہریوں اور مظاہرین میں بھی لڑائی ہوئی۔

محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ بیشتر مظاہرین کی ہلاکت قاہرہ کے رامسس چوک اور اس کے گرد و نواح میں ہوئی۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ اُنھوں نے مساجد میں پولیس اہلکاروں سمیت متعدد لاشیں رکھی ہوئی دیکھیں۔
XS
SM
MD
LG