رسائی کے لنکس

مصر ی احتجاجی جلوس، خطے کا ملا جلا ردِ عمل


مصر ی احتجاجی جلوس، خطے کا ملا جلا ردِ عمل

مصر ی احتجاجی جلوس، خطے کا ملا جلا ردِ عمل

مصری صدر حسنی مبارک کے خلاف ہونے والےعوامی مظاہروں کے بارے میں خطے میں ملا جلا ردِعمل سامنے آرہا ہے۔

ایران میں وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان نے مصری اہل کاروں پر زور دیا ہے کہ وہ، اُن کے بقول، عوام کے ‘جائز مطالبات ’ پورے کریں اور اُن کے خلاف کسی تشدد سے اجتناب کریں۔

ترجمان رمیم مہمان پرست نے ہفتے کے روز کہا کہ مصر میں ہونے والے احتجاج کی اساس اسلامی نوعیت کی ہےجس کا مقصد انصاف کا حصول ہے۔

اُنھوں نے ایرانی حکومت کی طرف سے مخالفوں کو کچلنے کی کارروائیوں کا کوئی ذکر نہیں کیا۔

سعودی عرب کے بادشاہ عبد اللہ نے احتجاج کرنے والوں پر تنقید کرتے ہوئے مسٹر مبارک کی حمایت کا اظہار کیا۔ سرکاری سعودی پریس ایجنسی نے شاہ عبداللہ کے حوالے سے خبردیتے ہوئے کہا ہےکہ اُنھوں نے مظاہرین کو منظم کرنے والوں کو باہر کے عناصر قرار دیا، جو اُن کے بقول، اظہار کی آزادی کے نام پر مصر کو غیر مستحکم کرنے کے درپے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی فرمانروا نے یہ کلمات مصری صدر سے ٹیلی فون گفتگو میں کہے۔

سعودی عرب اور مصر امریکہ کے کلیدی اتحادی ہیں۔ امریکہ نے صدر مبارک سے مطالبہ کیا ہے کہ اصلاحات سے متعلق اپنے وعدوں کو پورا کریں اور مظاہرین پرتشدد سے باز رہیں۔

اسرائیل، جوخطے میں امریکہ کا ایک اور کلیدی اتحادی ہے، اُس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ مصر کی صورتِ حال کا قریبی جائزہ لے رہا ہے حالانکہ اسرائیل کے عہدے دار پبلک بیانات سے گریز کر رہے ہیں۔

اخباری اطلاعات میں اِس بات پر تشویش کی نشاندہی کی جارہی ہے کہ بے چینی کی اِس صورتِ حال کے باعث مصر کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔ مصر ، اسرائیل اور فلسطینیوں کے مابین علاقائی مذاکرات کار کا اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔

اسرائیلی رپورٹوں میں کہا گیا کہ اگرجاری بھونچال کے نتیجے میں مصرکی حزبِ مخالف ‘ اخوان المسلمین ’ اقتدار حاصل کرلیتی ہے تو اِس سے حماس کا مسلح گروپ مضبوط ہوگا، جو کہ غزا کی پٹی میں فلسطینیوں کے لیےاخوان کی ایک شاخ کے طور پر کام کر رہی ہے۔ حماس کو ایران، شام اور لبنان میں قائم حزب اللہ کی حمایت حاصل ہے، جب کہ اِس کی حریف فلسطینی اتھارٹی اور اُس کے صدر محمود عباس کی مغرب حمایت کرتا ہے۔

افریقی یونین نے بھی مصر کی سیاسی بے چینی پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ فرانسسی خبر رساں ادارے، اے ایف پی نے افریقی یونین کمیشن کے سربراہ، ژاں پنگ کے حوالے سے خبر دی ہے کہ تیونس میں احتجاجی مظاہروں کے بعد یہ صورتِ حال پریشان کُن ہے۔

XS
SM
MD
LG