رسائی کے لنکس

مصری حکام حماس پر صحرائے سینا میں دہشت گردوں کی مدد کا الزام لگاتے رہے ہیں، اور رفاع کی راہداری کھولنے میں تاخیر کا باعث سلامتی سے متعلق تشویش کو قرار دیتے ہیں

مصری حکام نے مصر اور غزا کے درمیان سرحد دوبارہ کھول دی ہے، جو پانچ روز سے بند پڑی تھی اور جس کے باعث ہزاروں فلسطینی سفر کرنے سے قاصر تھے۔

مصر داخل ہونے کے منتظر ہزاروں افراد اسکول یا اسپتال جانے کے لیے رفاع کا راستہ اختیار کر رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ غزا واپس جانے کے خواہشمند سینکڑوں مزید فلسطینی بے چینی سے اپنی باری کے منتظر ہیں۔

ابھی یہ واضح نہیں آیا مصر کے حکام مزید کتنے عرصے تک یہ گزرگاہ کھلی رکھیں گے۔

غزا سے تعلق رکھنے والے حماس کے راہنماؤں کے مصر کی فوجی قیادت والی حکومت کے ساتھ تناؤ کی حالت والے تعلقات ہیں۔

مصری حکام حماس پر صحرائے سینا میں دہشت گردوں کی مدد کا الزام لگاتے رہے ہیں، اور رفاع کی راہداری کھولنے میں تاخیر کا باعث سلامتی سے متعلق تشویش کو قرار دیتے ہیں۔

سرحد کھلنے سے ایک ہی روز قبل اخوان المسلمون کے ہزاروں حامیوں نے مصر بھر میں کئی مقامات پر احتجاجی مظاہرے کیے، جن میں فوج کی حمایت سے چلنے والی حکومت کے خاتمے اور معطل کیے گئے صدر محمد مرسی کی دوبارہ بحالی کا مطالبہ کیا گیا۔

اِس احتجاج میں عددی شمار کے لحاظ سے یا پچھلے مظاہروں کی سی شدت نہیں تھی، حالانکہ کئی لوگوں نے احتجاج کرنے والوں کی تعداد کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی کوشش کی۔
XS
SM
MD
LG