رسائی کے لنکس

وہ اُن 130 ملزمان میں سے تھے، جن میں مرسی بھی شامل ہیں، جن پر 2011ء کی ملکی بغاوت کے دوران، قید سے فرار ہونے کی کوشش پر مقدمہ چلایا جارہا تھا

مصر کی ایک عدالت نے ایک سلفی داعی اور اخوان المسلمین کے ایک چوٹی کےاتحادی کو ایک سال قید با مشقت کی سزا سنائی ہے۔

اُن پر الزام تھا کہ اُنھوں نے قاہرہ کی پولیس اکیڈمی میں مقدمے کی سماعت کے دوران ججوں کے خلاف ہتک آمیز کلمات ادا کیے تھے۔

صفوت حجازی نے مصر کے معطل اسلام پسند صدر محمد مرسی کی انتخابی مہم کی حمایت کے لیے اخوان المسلمین کےحلقے میں شمولیت اختیار کی تھی۔

وہ اُن 130 ملزمان میں سے تھے، جن میں مرسی بھی شامل ہیں، جن پر 2011ء کی ملکی بغاوت کے دوران، قید سے فرار ہونے کی کوشش پر مقدمہ چلایا جارہا تھا۔

عدالت نے بدھ کے روز حجازی کو اُن کے ہتک آمیز کلمات پر سزا سنائی۔

حجازی اُن مرسی نواز احتجاجی خطیبوں میں شامل تھے، جنھیں سکیورٹی فورسز نے گذشتہ اگست میں کارروائی کرتے ہوئے منتشر کیا تھا۔

اُنھوں نے مظاہرین کو کہا تھا کہ وہ تب تک میدان نہ جائیں جب تک فوج کی طرف سے مرسی کے خلاف معطلی کے احکامات واپس نہیں لیے جاتے۔

اہل کاروں نے یہ تفصیل بغیر نام ظاہر کیے فراہم کی، کیونکہ اُنھیں صحافیوں سے بات کرنے کی باضابطہ طور پر اجازت نہیں تھی۔
XS
SM
MD
LG