رسائی کے لنکس

لاپتا طیارے کے ملبے کی نشاندہی ہو گئی: مصری حکام


فائل فوٹو

فائل فوٹو

کمیٹی کے بقول یونان کے جزیرے کریتے اور مصر کے ساحل کے درمیان پائے گئے اس ملبے کی مختلف تصاویر حاصل کر لی گئی ہیں۔

مصر میں حکام نے بتایا ہے کہ انھوں نے گزشتہ ماہ بحیرہ روم میں گر کر تباہ ہونے والے مسافر طیارے کے ملبے کا پتا لگا لیا ہے۔

یہ طیارہ پیرس سے قاہرہ جاتے ہوئے اچانک لاپتا ہو گیا تھا جس کے بارے میں بعدازاں یہ معلوم ہوا کہ یہ دوران پرواز تباہ ہو گیا تھا۔ طیارے پر سوار تمام 66 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اس واقعے کی تحقیقات کرنے والی مصر کی سرکاری کمیٹی نے بتایا ہے کہ طیارے کے ملبے اور فلائیٹ ڈیٹا ریکارڈز کی تلاش کی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہاز "جان لیتھبرج" نے مختلف مقامات پر ملبے کی نشاندہی کی ہے۔

کمیٹی کے بقول یونان کے جزیرے کریتے اور مصر کے ساحل کے درمیان پائے گئے اس ملبے کی مختلف تصاویر حاصل کر لی گئی ہیں۔

اگلے مرحلے میں اب ملبے کے اصل مقامات تک رسائی کے لیے نقشے تیار کیے جائیں گے۔ تلاش کے کام میں مصروف اس بحری جہاز پر جدید آلات اور سمندر میں تقریباً چھ ہزار فٹ گہرائی تک چیزوں کی نشاندہی کرنے والے "سونار سسٹم" نصب ہیں۔

اب تک کی سامنے آنے والی معلومات کے مطابق 19 مئی کو دوران پرواز راڈار سے غائب ہونے سے کچھ دیر قبل طیارے نے بہت تیزی سے بائیں اور پھر دائیں طرف رخ تبدیل کیا اور 38 ہزار فٹ کی بلندی سے ایک دم 15 ہزار فٹ کی بلندی پر آیا۔

ایسے شواہد بھی بتائے جاتے ہیں کہ طیارے کے لاپتا ہونے سے قبل اس میں دھواں بھر گیا تھا۔ لیکن تاحال اس کے تباہ ہونے کے بارے میں حتمی طور پر کسی مصدقہ وجہ کا تعین نہیں کیا جا سکا ہے۔

طیارے کے ملبے کی تلاش میں مصر، یونان، فرانس اور امریکہ سمیت مختلف ملکوں کے جہاز اور کشتیاں مصروف عمل رہی ہیں۔

اب تک ملبے کا کچھ تھوڑا سا حصہ اور چند انسانی اعضا ہی کارکنوں کے ہاتھ لگے ہیں۔

XS
SM
MD
LG