رسائی کے لنکس

مصر: مبارک کے حامیوں کا مظاہرہ اورنائب صدر سے متعلق عمومی رائے

  • گیری تھامس

مصر: مبارک کے حامیوں کا مظاہرہ اورنائب صدر سے متعلق عمومی رائے

مصر: مبارک کے حامیوں کا مظاہرہ اورنائب صدر سے متعلق عمومی رائے

مصر میں بحران مسلسل شدید سے شدید تر ہوتا جارہا ہے اور اس کے ساتھ ہی سیکورٹی اور انٹیلی جنس فورسز کا رول انتہائی اہم ہو گیا ہے ۔ صدر مبارک نے کہا ہے کہ وہ آئندہ انتخاب میں حصہ نہیں لیں گے۔ انھوں نے اپنے انٹیلی جنس چیف عمر سلیمان کو نائب صدر مقرر کر دیا ہے ،لیکن مصر کے لوگوں کے رائے ان کے بارے میں اچھی نہیں ہے ۔

یو ایس آرمی وار کالج کے پروفیسر لیری گُڈسن کہتے ہیں کہ جب مبارک کے حامی مظاہرین کا ٹکراؤ حکومت مخالف احتجاجی مظاہرین سے ہوا ، تو یوں محسوس ہوا کہ یہ سب حکومت کی ایما پر ہو رہا ہے۔’’جب میں نے اس حیرتناک منظر کی تصویریں دیکھیں کہ گھوڑوں اور اونٹوں پر سوار لوگ تحریر اسکوائر میں دوڑے چلے آ رہے ہیں، اور وہاں ٹینک آرام سے کھڑے ہیں اور یہ لوگ دیوانوں کی طرح بلا روک ٹوک چلے آ رہے ہیں، تو مجھے ایسا محسوس ہوا کہ حکومت نے ان لوگوں کو پُر امن احتجاج کرنے والوں پر حملے کے لیئے بھیجا ہے۔‘‘

حکومت نے کہا ہے کہ ان جھڑپوں میں اس کا کوئی رول نہیں ہے ۔ لیکن انٹیلی جنس کے سابق تجزیہ کار اوون سرز جنھوں نے مصری انٹیلی جنس کی مکمل تاریخ تصنیف کی ہے، کہتے ہیں کہ یہ حملے شاید ملک کے نئے صدر اور انٹیلی جنس کے سابق چیف، جنرل عمر سلیمان نے منظم کیئے ہیں۔’’مصر کی انٹیلی جنس کی سروس کے سربراہ اور مصر کی پوری انٹیلی جنس کمیونٹی کے سربراہ کی حیثیت سے ، جنرل سلیمان یقیناً اس قسم کی سرگرمیوں میں ملوث ہوں گے۔ میں سمجھتا ہوں کہ مبارک کی حمایت میں احتجاج کرنے والے یہ لوگ کسی نہ کسی طرح ملک کی سیکورٹی سروس سے وابستہ ہیں۔‘‘

صدر مبارک نے 29 جنوری کو انہیں نائب صدر مقرر کیا۔ بعد میں صدر نے کہا کہ وہ اگلے انتخاب میں حصہ نہیں لیں گے۔ لیکن انھوں نے احتجاجیوں کا یہ مطالبہ تسلیم نہیں کیا کہ وہ فوری طور پر اپنا عہدہ چھوڑ دیں۔

جنرل انٹیلی جنس سروس کے سربراہ کی حیثیت سے، سلیمان بیرون ِ ملک انٹیلی جنس کے معاملات کے ذمہ دار تھے لیکن ملک کے اندر بھی ان کی کچھ سیکورٹی کی ذمہ داریاں تھیں۔ وہ صدر مبارک کے قریبی معتمد ہیں۔ 2009 میں فارن پالیسی میگزین نے لکھا تھا کہ وہ عرب دنیا کے سب سے زیادہ طاقتور انٹیلی جنس چیف ہیں۔

اوون سرز کہتے ہیں کہ مصر کی انٹیلی جنس سروسز کا انسانی حقوق کا ریکارڈ بہت خراب ہے اور صدر مبارک سے سلیمان کی قربت کی وجہ سے ، وہ احتجاجیوں کے لیئے نا پسندیدہ شخصیت ہیں۔’’میرے خیال میں لوگوں کو اس سے غرض نہیں ہے کہ عمر سلیمان کی توجہ سیکورٹی کے بیرونی معاملات پر ہے یا اندرونی معاملات پر۔ ان کے ذہن میں وہ مصر میں انٹیلی جنس کے کرتا دھرتا ہیں۔ اور سب جانتے ہیں کہ مصر میں سیکورٹی سروسز کی ساکھ بہت خراب ہے۔ وہ اپنی سفاکی، انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزی، اور اذیت رسانی کے لیئے مشہور ہیں ۔ یہ سب چیزیں انسانی حقوق کی بہت سی رپورٹوں میں درج ہیں۔‘‘

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ مصر کی جنرل انٹیلی جنس سروس کے امریکہ کی سی آئی اے سے بڑے دیرینہ اور قریبی تعلقات ہیں، خاص طور سے انسداد ِ دہشت گردی کے معاملات میں۔ مصر کی داخلی انٹیلی جنس سروس جو وزارتِ داخلہ کے تحت کام کرتی ہے، مخبروں کا ایک بہت بڑا نیٹ ورک استعمال کرتی ہے جو بعض اندازوں کے مطابق،تقریباً دس لاکھ افراد پر مشتمل ہے ۔ سرزکہتے ہیں کہ مصر کی انٹیلی جنس سروس سیاسی مخالفین کے ساتھ برے سلوک کی وجہ سے خاص طور سے بد نام ہے۔’’یہ سروس اپنی بربریت ، حکومت کے مخالفین کو گرفتار کرنے، انہیں جیل میں ڈالنے، اور جیل میں اذیتیں دینے کے لیئے مشہور ہے۔ ایسا بھی ہوا ہے کہ بعض لوگ انٹیلی جنس ایجنٹوں کے ہاتھوں ہلاک ہو گئے ہیں۔‘‘

لیکن سرز کہتے ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ مصر کے بحران میں، ملٹری انٹیلی جنس کا رول زیادہ اہم ہو۔ وہ کہتے ہیں کہ لو گ ملٹری انٹیلی جنس کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے، اور یہ سروس براہ راست اختلاف رائے کو نہیں کچلتی، لیکن یہ فوج کے عملے پر کڑی نظر رکھتی ہے کہ ان میں سے کون صدر کا وفا دار ہے، اور اس سے بھی اہم یہ کہ فوجی قیادت کا وفادار ہے۔ فوج کی طرف سے کسی بھی سیاسی اقدام کی صورت میں یہ چیز انتہائی اہم ہو سکتی ہے ۔

XS
SM
MD
LG