رسائی کے لنکس

تشدد اور بدعنوانی کےالزامات پرمبارک کےخلاف سمن جاری


.

.

سرکاری فند میں غبن کے الزامات کی تفتیش کے لیےمعزول لیڈر حسنی مبارک کے خلاف اتوار کو سمن جاری کردیےگئے ہیں، ایسے میں جب قاہرہ کے تحریر چوک پراحتجاج کر نے والے سیکنڑوں لوگوں نے اُن کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا

مصر کے پبلک پرازیکوٹر نے احتجاجی مظاہرین کو ہلاک کرنے اور سرکاری فند میں غبن کے الزامات کی تفتیش کے لیےمعزول لیڈر حسنی مبارک کے خلاف اتوار کو سمن جاری کردیے ہیں، ایسے میں جب قاہرہ کے تحریر چوک پراحتجاج کر نے والے سیکنڑوں لوگوں نے اُن کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا۔

استغاثے کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مسٹر مبارک کے بیٹوں جمال اور اعلیٰ کو بھی بدعنوانی کی چھان بین کے سلسلے میں سمن جاری کردیے گئے ہیں۔

یہ بیان معزول صدر کے اُس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جِس میں اُنھوں نے کہا تھا کہ اُن کے خلاف الزامات بلا جواز ہیں اور یہ کہ اُنھیں اپنے اور اپنے خاندان کے وقار کا دفاع کرنے کا حق حاصل ہے۔

مسٹر مبارک نے اتوار کے دِن ’العربیہ‘ نیوز چینل پر نشر ہونے والےایک بیان میں کہا کہ وہ اپنے ذاتی اور خاندان کے وقار کے دفاع کے لیے اپنے قانونی حقوق کا سہارا لیں گے۔ بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہروں کے نتیجے میں فروری میں معزول ہونے کے بعد یہ اُن کا پہلا عام بیان تھا۔

اُنھوں نے کہا کہ وہ اُن اہل کاروں کے ساتھ تعاون کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جو اُن کی دولت سے متعلق تفتیش کر رہے ہیں، اور کہا کہ اُن کے پاس غیر ملکی بینکوں میں کوئی اکاؤنٹ یا بیرونِ ملک بڑی املاک نہیں ۔

پبلک پروزیکوٹر نے اتوار کو اِس بات کا بھی اعلان کیا کہ اہل کاروں نے بد عنوانی کی تفتیش کے سلسلے میں سابق وزیرِ اعظم احمد ناظف کو15روز کے لیے حراست میں لیا ہے۔

احتجاجی مظاہرین نےبدعنوانی اور دیگر جرائم کے الزامات پر معزول صدر اور اُن کی حکومت کے ارکان پرمقدمہ چلانے کے لیےمصر کی حکمراں فوج پردباؤ میں اضافہ کردیا ہے ۔

سینکڑوں مظاہرین نے فوج کے احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے قاہرہ کےتحریر چوک خالی کرنے سے انکار کردیا ہے۔

اتوار کو اسکوائر پر احتجاج کرنے والوں نے فیلڈ مارشل محمد حسین تنتوی کے خلاف نعرے لگائے جو فروری میں مسٹر مبارک کی معزولی کے بعدملٹری کونسل کے سربراہ بنے اور مصر کا اقتدار سنبھالے ہوئے ہیں۔

مظاہرین نے فوج پر سابق لیڈر کو تحفظ فراہم کرنے کا الزام لگایا ہے ، جو اپنے خاندان کے ساتھ بحیرہٴ احمر کے ساحل پر شرم الشیخ میں گھر پر زیرِ حراست ہیں۔

احتجاج کرنے والےتحریر چوک پرٹھہرے ہوئے ہیں باوجود اِس بات کے کہ ہفتے کو مصر کے فوجی حکمرانوں نے واضح کیا کہ وہ طاقت کے ذریعے اِس مقام کو خالی کرانےکے لیے تیار ہیں تاکہ زندگی کےمعمولات جاری ہوسکیں۔

XS
SM
MD
LG