رسائی کے لنکس

مصر: دہشت گردی کے خلاف لڑائی یا شدت پسندی میں اضافہ؟


تحریر چوک

تحریر چوک

منصورہ بم حملے کے بعد، حکومت نے اخوان کو ایک دہشت گرد گروہ قرار دیا؛ حالانکہ اُس کے پاس ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں تھا، جب کہ اس کی ذمہ داری انصار بیت المقدس قبول کر چکا تھا

گذشتہ سال صدر محمد مرصی کی معزولی کے بعد سے جہاد پسند گروہ، انصار بیت المقدس نے مصر میں سلامتی کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے۔ لیکن،کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ مسٹر مرصی کے اخوان المسلمون اور صنعا میں قائم شدت پسند گروپ کو ایک کرکے پیش کرنے سے، مصر کی حکومت دہشت گردی پر کنٹرول کرنے کی جگہ اِس کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔

قاہرہ سے 'وائس آف امریکہ' کی نامہ نگار، الزبیتھ اروٹ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ مصر کی حکومت نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا اعلان کر رکھا ہے، لیکن ہر اعتبار سے دہشت گردوں کی یہاں موجودگی یقینی ہے۔

انصار بیت المقدس یا یروشلم کے حامی اُن متعدد جہادی گروہوں میں سے ایک ہے جو مصر کے زیادہ تر لاقانون جزیرہ نما صنعا میں قائم ہے۔ القاعدہ کے خیالات سے اثرانداز ہونے کا دعویٰ کرنے والے اس گروہ نے اسرائیل کے اندر میزائل داغے ہیں۔ تاہم، اُن کے زیادہ تر اہداف داخلی ہیں۔

سوئیز کینال کے جہازرانی کے بیڑے پر ناکام حملے سے لے کر صنعا میں ایک فوجی ہیلی کاپٹر کو گرانے تک، اُن کی طرف سے جدید ہتھیاروں کے استعمال نے سب کو خوف زدہ کردیا ہے۔

اِسی طرح، مصر کے وسط میں حملہ کرنے، دسمبر میں منصورہ میں ایک پولیس تھانے پر مہلک بم حملہ کرنا؛ اور گذشتہ ماہ دارالحکومت میں بمباری کا ایک سلسلہ شروع کرنا شامل ہے۔

اِن سب حملوں کے باعث انصار بیت المقدس کا دنیا کی انتہائی مایوس کُن دہشت گرد گروہ قرار دیا جانا چاہیئے؛ وہ بارہا حملوں کی ذمہ داری قبول کرتا رہا ہے؛ جب کہ مصر کی حکومت اِن کی ذمہ دار اخوان المسلمون کو قرار دیتی ہے۔

منصورہ بم حملے کے بعد، حکومت نے اخوان کو ایک دہشت گرد گروہ قرار دیا؛ حالانکہ اُس کے پاس ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں تھا، جب کہ اس کی ذمہ داری انصار بیت المقدس قبول کر چکا تھا۔

کچھ لوگ اِنھیں معزول صدر محمد مرصی کی کارستانی گردانتے ہیں، جو اقتدار کے وقت اخوان المسلمون سے وابستہ تھے۔

دفاعی تجزیہ کار سمیع سیف الیزال کہتے ہیں کہ اپنے دورِ صدارت کے دوران، مرصی کی طرف سے قید میں بند دہشت گردوں کو عام معافی دینا اور دوسرے لوگوں کو ملک میں داخل ہونے کی اجازت دینا؛ اور ساتھ ہی، بعدازاں، انصار بیت المقدس کے حملے ایک مصیبت بن چکے ہیں۔

تاہم، احتجاج کرنے والے طالب علموں، صحافیوں اور دیگر افراد کو دہشت گردی کے الزامات میں گرفتار کرنا ایک سنگین معاملہ ہے، جس سے معاملات مزید غیر واضح ہوتے ہیں۔

سرگرم سیاسی کارکن، وایل خلیل کا کہنا ہے کہ حکومت کا یہ نیا انداز، دہشت گردوں کو کھلی چھٹی فراہم کرتا ہے، جب کہ اُن کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ایسے میں جب رپورٹیں یہ مل رہی ہیں کہ مبینہ طور پر غیر ملکی عسکریت پسند روزانہ صنعا میں داخل ہو رہے ہیں، مصر کی حکومت، جس طرح کہ پہلے شام میں تھا، اُسے ایک دِن ضرورت یہ پیش آئے گی کہ اُس کی حمایت کرنے والے لوگ کتنےہیں۔
XS
SM
MD
LG