رسائی کے لنکس

مصر: مرسی کی برطرفی کے خلاف طلبہ کے مظاہرے


جامعہ الازہر کے طلبہ اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔

جامعہ الازہر کے طلبہ اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔

مظاہروں کا آغاز ہفتے کو قاہرہ میں قائم سنی مسلمانوں کے قدیم ترین معتبر تعلیمی ادارے 'جامعہ ازہر' کے طلبہ نے کیا تھا۔

مصر میں ملک کے پہلے منتخب صدر محمد مرسی کی فوج کے ہاتھوں معزولی کے خلاف مختلف جامعات کے طلبہ کے احتجاجی مظاہرے پیر کو مسلسل تیسرے روز بھی جاری ہیں۔

مظاہروں کا آغاز ہفتے کو قاہرہ میں قائم سنی مسلمانوں کے قدیم ترین معتبر تعلیمی ادارے 'جامعہ ازہر' کے طلبہ نے کیا تھا جس میں پیر کو مختلف شہروں میں موجود'الازہر' کے کیمپس اور دیگر تعلیمی اداروں کے طلبہ بھی شامل ہوگئے ہیں۔

مغربی ذرائع ابلاغ نے اپنے تجزیوں میں 'جامعہ الازہر' کے طلبہ کی جانب سے شروع کیے جانے والے اس احتجاج کو حکام کے لیے ایک "مشکل صورتِ حال" قرار دیا ہے کیوں کہ جامعہ کی انتظامیہ ملک کے فوجی حکمرانوں اور اشرافیہ کی حامی تصور کی جاتی ہے۔

لیکن 'جامعہ الازہر' میں محمد مرسی کی اسلام پسند جماعت 'اخوان المسلمون' کے حامی طلبہ و اساتذہ بھی قابلِ ذکر تعداد میں موجود ہیں جنہیں حکام ان مظاہروں کے پسِ پشت اصل محرک قرار دے رہے ہیں۔

سکیورٹی حکام نے بتایا ہے کہ قاہرہ میں احتجاج کرنے والے طلبہ و طالبات کی تعداد چار ہزار سے زائد ہے جن میں سے اب تک 44 کو حراست میں لیا جاچکا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ صدر مرسی کی جماعت 'اخوان المسلمون' نے احتجاج سے متعلق اپنی حکمتِ عملی تبدیل کرلی ہے اور وہ ماضی کے برعکس بڑے عوامی جلوسوں کے بجائے حساس مقامات پر نسبتاً چھوٹے پیمانے پر مظاہروں کو ترجیح دے رہی ہے۔

رواں برس تین جولائی کو صدر مرسی کی برطرفی کے بعد فوج اور سکیورٹی اداروں نے اخوان کے کئی بڑے مظاہروں کو پرتشدد ہتھکنڈے استعمال کرکے منتشر کردیا تھا۔ فوجی کریک ڈاؤن میں اب تک اخوان کے سیکڑوں حامی مارے جاچکے ہیں جب کہ مرسی سمیت تمام اعلیٰ قیادت فوج کی تحویل میں ہے جن کے خلاف سنگین الزامات کے تحت مقدمات چلائے جارہے ہیں۔

طلبہ کے مظاہرے ایک ایسے وقت میں ہورہے ہیں جب مصری فوج کی حمایت یافتہ عبوری حکومت ایک مجوزہ قانون پر غور کر رہی ہے جس کے تحت ملک میں احتجاجی مظاہروں کو غیر قانونی قرار دے دیا جائے گا۔

انسانی حقوق کی کئی عالمی تنظیموں نے مصر کی عبوری حکومت کو خبردار کیا ہے کہ وہ مجوزہ قانون کی منظوری سے باز رہے کیوں کہ اس کے نتیجے میں ملک کی سیاسی صورتِ حال مزید ابتر ہونے کا اندیشہ ہے۔
XS
SM
MD
LG