رسائی کے لنکس

مصر کے سیاسی بحران کےباعث سرمایہ کار پریشان


مصر کے سیاسی بحران کےباعث سرمایہ کار پریشان

مصر کے سیاسی بحران کےباعث سرمایہ کار پریشان

رواں سال ستمبر میں ہونے والے مجوزہ انتخابات سے قبل ملک میں بڑھتی ہوئی سیاسی اور معاشی بے یقینی اور حالیہ احتجاجی مظاہروں کی لہر کے باعث ملکی معیشت پر برے اثرات پڑ سکتے ہیں

مصر میں جاری سیاسی بد امنی نے جہاں دنیا بھرکےسرمایہ کاروں کو پریشانی میں مبتلا کردیا ہے وہیں ایک عالمی ریٹنگ ایجنسی نے خبردارکیا ہے کہ اُس کی جانب سے موجودہ صورتِ حال کے پیشِ نظر مصر کے ریٹنگ پوائنٹس میں کمی کی جاسکتی ہے۔

'فچ ریٹنگز' کی جانب سے جمعہ کے روز جاری کی گئی وارننگ میں کہا گیا ہے کہ مصر میں رواں سال ستمبر میں ہونے والے مجوزہ انتخابات سے قبل ملک میں بڑھتی ہوئی سیاسی اور معاشی بے یقینی اور حالیہ احتجاجی مظاہروں کی لہر کے باعث ملکی معیشت پر برے اثرات پڑ سکتے ہیں۔

تاہم ادارے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ انہیں امید ہے کہ مصر میں تیونس کی تاریخ نہیں دہرائی جائے گی جہاں اسی طرز کےشدید مظاہروں کےباعث ملک کے صدر کو اقتدار چھوڑ کر بیرونِِ ملک فرار ہونا پڑا تھا۔

مصر میں جاری حالیہ پر تشدد مظاہروں کے عالمی اسٹاک مارکیٹس پر بھی منفی اثرات پڑے ہیں اور ایشیا، یورپ اور امریکہ کی اسٹاک مارکیٹس میں جمعہ کے روز مندی کا رجحان دیکھا گیا۔

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سرمایہ کاروں میں پایا جانے والا یہ خوف ہے کہ کہیں مصر میں جاری سیاسی بد امنی کی لہر تیل کی پیداوار کیلیے مشہور دیگر عرب ممالک کو اپنی لپیٹ میں نہ لے لے یا مصر کی سوئز کینال کے ذریعے یورپ کو تیل کی سپلائی نہ معطل ہوجائے۔

XS
SM
MD
LG