رسائی کے لنکس

مصر: ہلری کلنٹن کی قاہرہ آمد، مرسی سے ملاقات

  • واشنگٹن

امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن

امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن

امریکی وزیر خارجہ نےمصر کےنئے اسلام پسند صدر کے ساتھ ملاقات میں عبوری سیاسی دور کے لیے امریکی حمایت کا اعادہ کیا

امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن کا کہنا ہےکہ نئے صدر محمد مرسی کے ساتھ اُن کی ملاقات میں مصر کے عبوری سیاسی دور کے لیے امریکی حمایت کا اعادہ کیا گیا۔

ملاقات کے بعد ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہلری کلنٹن نے کہا کہ امریکہ مدد کرنا چاہتا ہے، لیکن اِس بات کا تعین مصر کے لوگوں کو ہی کرنا ہوگا کہ عبوری دور کیسے طے کیا جائے۔

’وائس آف امریکہ‘ کے نامہ نگار اسکوٹ اسٹیرنس نے، جو وزیر خارجہ کے ساتھ سفر کر رہے ہیں،بتایا ہے کہ امریکہ نے معاشی امداد کا بھی وعدہ کیا۔

اس سے قبل، ہلری کلنٹن ابوظھبی کی ایک پرواز کے ذریعے ہفتے کے روزقاہرہ پہنچیں۔

اسکوٹ اسٹیرنس نے بتایا ہے کہ وہ مسٹر مرسی کو سننا چاہتی ہیں جو ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔

اسٹیرنس کے بقول، گذشتہ برس شروع ہونے والے عبوری دور کے دوران شرح نمو میں عدم اضافہ اور سیاحت میں آنے والی کمی کے باعث مصر کی معیشت کو دوہرا نقصان پہنچا ہے۔ امریکی حکام نے بتایا ہے کہ امریکہ کئی طریقے تجویز کر سکتا ہے جِن کی مدد سے معیشت کو مستحکم کیا جا سکتا ہے۔

تحریر چوک، مصر

تحریر چوک، مصر


امریکی حکام نے اسٹیرنس کو بتایا کہ اِن اقدامات میں امریکہ مصر انٹر پرائیز فنڈ کے چھ کروڑ ڈالر، اور چھوٹے اور متوسط سطح کے کاروباروں کی اعانت کے لیے 25کروڑ ڈالر کی رقوم کی دستیابی شامل ہیں۔

حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہلری کلنٹن مختلف شعبہائے زندگی سےتعلق رکھنے والے فریقین سے نئے آئین کی تیاری اور پارلیمان کے حوالے سے اُن کی آرا ٴ سننا چاہتی ہیں۔
مسٹر مرسی گذشتہ سال صدر حسنی مبارک کے مستعفی ہونے کے بعد ملک کا کنٹرول سنبھالنے والے مصر کے فوجی لیڈروں کے ساتھ اقتدار کی رسہ کشی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

فوج نےملک کے پہلے سویلین صدر کے اختیارات کو محدود کرنےکی کوشش کی ہے۔ ساتھ ہی، گذشتہ ماہ ملٹری لیڈرز نے عدالت عظمیٰ کی طرف سے پارلیمان کو تحلیل کیے جانے کے فیصلے کی تائید کی تھی۔ عدالت کا کہنا تھا کہ کچھ ارکان دھاندلی کے ذریعے منتخب ہوئےہیں۔

ہلری کلنٹن کی آمد کے موقع پر صدارتی محل کےباہر کئی درجن افراد نےاحتجاجی مظاہرہ کیا۔ اِس سے قبل، مصری میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ سرگرم کارکنوں نے امریکہ اور اسلام پسند اخوان المسلمون کےدرمیان ہونے والے کسی اتحادکے خلاف احتجاج کی کال دی ہے۔
XS
SM
MD
LG