رسائی کے لنکس

مصری امریکہ کے ساتھ تعلقات میں تبدیلی کے خواہاں

  • مارگریٹ بشیر

یہ بات اہم ہے کہ امریکہ اسرائیل کی طرف اپنے جھکاؤ سمیت، بہت سے معاملات میں اپنے موقف میں تبدیلی لائے۔

امریکہ اور مصر کے درمیان ایک عرصے سے قریبی تعلقات قائم رہے ہیں۔ مصر کو امریکہ کی فوجی اور اقتصادی امداد کی سالانہ مالیت ایک ارب ڈالر سے زیادہ ہے، لیکن بہت سے مصری اپنے ملک کے داخلی معاملات میں امریکہ کی مداخلت پسند نہیں کرتے ۔ اب جب کہ 8 کروڑ کی آبادی والے اس ملک میں ، عرب موسم بہار کی جڑیں مضبوط ہو رہی ہیں، بہت سے مصری چاہتے ہیں کہ امریکہ کے ساتھ ان کے ملک کے تعلقات میں بتدریج تبدیلی آئے ۔

اتوار کے روز، امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن مصر کے نو منتخب صدر محمد مرسی اور دوسرے عہدے داروں سے ملاقات کے لیے، مصر پہنچیں گی ۔

اس دورے میں جو موضوعات زیرِ بحث آئیں گے ان میں مصر میں سیاسی تبدیلی، اس کی مشکلات سے دو چار معیشت، اسرائیل کے ساتھ اس کا امن معاہدہ، اور امریکہ امداد سرِ فہرست ہوں گے ۔

قاہرہ کی امریکن یونیورسٹی میں سیاسیات کی پروفیسر منار شورباگے کہتی ہیں کہ اس نئے مرحلے میں، امریکہ کو مصر کےساتھ اپنے تعلقات کا از سرِ نو جائزہ لینا چاہیئے ۔’’جہاں تک امریکہ کا تعلق ہے، مجھے امید ہے کہ وہ علاقے میں اپنے مفادات پر نئے سرے سے غور کرے گا ۔ اب تک اس علاقے میں اس کے مفادات تیل اور اسرائیل کی حفاظت تک محدود رہے ہیں۔ میرے خیال میں مصر اور امریکہ کے تعلقات اس سے کہیں زیادہ اہم ہیں۔ یہ بات اہم ہے کہ مصر کے ساتھ ہمارا تعلق باہم مفادات کی بنیاد پر قائم ہو ۔‘‘

وہ کہتی ہیں کہ عرب موسم بہار کے جلو میں جو جمہوری انقلاب آیا ہے، اس میں مصریوں نے اپنی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آئے ۔ اور یہی جذبہ بقیہ دنیا کے ساتھ ان کے تعلقات میں بھی دیکھنے میں آئے گا۔

قاہرہ کی وزارتِ زراعت کے ایک اکاؤنٹنٹ ، احمد ، کا بھی یہی خیال ہے ۔ وہ کہتے ہیں’’ہم کچھ زیادہ نہیں مانگتے، ہم یہ نہیں کہتے کہ ہمیں اتنی ہی امداد ملے جتنی وہ اسرائیل کو یا پورے علاقے کو دیتے ہیں۔ لیکن ہمارے مفاد میں جو کچھ ہے، یعنی جمہوریت، اقتصادی ترقی، ہم چاہتے ہیں کہ وہ اس کی حمایت کریں اور اسے گیس کے ساتھ، نہرِ سوئز کی اہمیت کے ساتھ، ایران کے ساتھ، شام کے ساتھ، مشروط کیے بغیر ، ہمارا ساتھ دیں۔ ہم ایک الگ ملک ہیں۔‘‘

2009 میں صدر براک اوباما قاہرہ آئے اور انھوں نے امریکہ اور عرب اور مسلمان دنیا کے درمیان ایک نئی شروعات کے بارے میں، ایک تاریخی تقریر کی ۔ انھوں نے برسوں کی بد اعتمادی کو ختم کرنے، اور باہم احترام کی بنیاد پر مشترکہ اندازِ فکر اور تعلقات کی بات کی ۔

سیاسیات کی ماہرشورباگے کہتی ہیں کہ اگرچہ اس تقریر کے عزائم اچھے تھے، لیکن ہو سکتا ہے کہ نا دانستہ طور پر، اس کا الٹا اثر ہوا ہو ۔ ’’میرے خیال میں گذشتہ چند برسوں میں ہوا یہ ہے کہ اوباما کی قاہرہ کی تقریر سے، توقعات بہت بڑھ گئیں، اور جو وعدے کیے گئے تھے ان میں سے کوئی بھی پورا نہیں ہوا ۔ اس طرح حالات پہلے سے زیادہ خراب ہو گئے۔‘‘

اس مایوسی کا اظہار مارچ میں شائع ہونے والے گیلپ پول میں ہوا جس سے پتہ چلا کہ سروے میں شامل نصف سے زیادہ مصریوں کے خیال میں امریکہ کے ساتھ قریبی تعلقات فائدہ مند نہیں ہیں۔

20 سالہ محمد تاریخ کا مضمون پڑھاتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ اوباما کی تقریر کے بعد، عرب ڈکٹیٹروں کے ساتھ معاملات میں یا فلسطین کے مسئلے میں ، ہمیں امریکہ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آئی ہے ۔ یہ سب زبانی باتیں ہیں جن کو کوئی نتیجہ نہیں نکلتا ۔
محمد جلال اور چند دوست دوپہر کی گرمی میں قاہرہ کی ایک سپر مارکیٹ کے باہر بیٹھے حقہ پی رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مصر کے لوگ امریکہ کے لوگوں کو پسند کرتے ہیں۔ انہیں جو چیز نا پسند ہے وہ مشرقِ وسطیٰ کے بارے میں امریکی حکومت کی پالیسی ہے ۔

ان منفی خیالات کی ایک وجہ ایک اعشاریہ چار ارب ڈالر کی فوجی امداد اور 25 کروڑ ڈالر کی وہ امداد ہے جو امریکہ مصر میں اقتصادی اور سیاسی پروگراموں پر ہر سال خرچ کرتا ہے ۔حال ہی میں گیلپ کے ایک اور سروے کے مطابق، جن مصریوں کی رائے معلوم کی گئی ان میں سے صرف ایک چوتھائی اس امداد کوجاری رکھنے کے حق میں تھے ۔

امداد کی اس رقم کا بیشتر حصہ بعض شرائط کے ساتھ دیا جاتا ہے ، اور محمد جلال اور ان کے دوستوں جیسے مصریوں کو یہ بات ناگوار ہے۔

جلال کہتے ہیں کہ امریکہ کو مصریوں کے ساتھ برابری کا سلوک کرنا چاہیئے۔’’ جیسے ایک انسان دوسرے انسان کے ساتھ کرتا ہے، غرور اور تکبر کے ساتھ نہیں۔ آپ کو یہ نہیں کرنا چاہیئے کہ آپ ہمیں امداد دیں اور پھر ہم سے کہیں کہ یہ کرو اور یہ نہ کرو۔ آپ مجھے کنٹرول نہیں کر سکتے۔‘‘

اخبار الاہرام کے سیاسی کالم نگار عاطف الغامری کہتے ہیں کہ مصر اب ایک ایسے دور میں ہے جب امریکہ کے ساتھ خارجہ پالیسی کے فیصلے خود اس کے اپنے ہاتھوں میں ہیں۔ لہٰذا ، یہ بات اہم ہے کہ امریکہ اسرائیل کی طرف اپنے جھکاؤ سمیت، بہت سے معاملات میں اپنے موقف میں تبدیلی لائے۔

اگرچہ مصری جانتے ہیں کہ سیاسی طور پر امریکہ اسرائیل کا طرفدار ہے، لیکن گیلپ کے سروے میں شامل مصریوں کی تقریباً نصف تعداد کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ اچھی چیز ہے ۔

وزیرِ خارجہ کلنٹن کے دورے میں، یہ دونوں اتحادی ملک اپنے درمیان تعاون کو فروغ دینے کے لیے بہت سے موضوعات پر تبادلۂ خیال کریں گے ۔
XS
SM
MD
LG