رسائی کے لنکس

مصر: 'دہشت گردی' کے خلاف عوام سے مظاہرے کرنے کی اپیل


فوج کے سربراہ عبدالفتاح السیسی

فوج کے سربراہ عبدالفتاح السیسی

فوج کے سربراہ کی یہ اپیل ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ملک میں صدر کی برطرفی کے بعد سے مظاہرے اور جھڑپیں جاری ہیں اور بدھ کو بھی تین افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔

مصر کی فوج کے سربراہ عبدالفتاح السیسی نے لوگوں سے جمعہ کو ’’دہشت گردی اور تشدد‘‘ کے خلاف فوج کو اختیار دینے کے لیے بڑے مظاہرے کرنے کی درخواست کی ہے۔

یہ اپیل انھوں نے بدھ کو ٹی وی پر کیے گئے اپنے خطاب میں کی۔

فوج نے رواں ماہ ملک کے پہلے جمہوری منتخب صدر محمد مرسی کو برطرف کرکے ملک میں عبوری صدر کو مقرر کیا تھا جو ملک کے آئین میں ترامیم سمیت پارلیمانی و صدارتی انتخابات کے عزم کا اظہار کرچکے ہیں۔

دریں اثناء حکام نے بتایا کہ بدھ کی صبح پولیس اسٹیشن پر ہونے والے بم دھماکے میں کم ازکم ایک شخص ہلاک اور 18 زخمی ہوگئے۔

حکام کے مطابق دارالحکومت قاہرہ سے ایک سو کلومیٹر دور شمال میں واقع شہر منصورہ میں ایک شدت پسند نے گاڑی سے پولیس اسٹیشن میں بم پھینکا۔

یہ واقعہ ایک ایسے وقت پیش آیا ہے جب رواں ماہ فوج کی طرف سے صدر محمد مرسی کو برطرف کیے جانے کے بعد سے ملک کے مختلف حصوں میں مظاہرے جاری ہیں۔

عبوری صدر عدلی منصور کے ایک ترجمان بم حملے کو دہشت گردانہ کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ’’مصر کا عزم کمزور‘‘ نہیں ہو گا۔

دریں اثناء محمد مرسی کی حامی اخوان المسلمین کا کہنا ہے کہ بدھ کو قاہرہ میں ایک ریلی کے دوران دو مظاہرین ہلاک ہو گئے۔

منگل کو بھی قاہرہ یونیورسٹی میں مرسی کے حامیوں کے ایک دھرنے کے قریب ہونے والی جھڑپوں میں کم ازکم نو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اخوان المسلمین کا کہنا ہے کہ یہ ہلاکتیں مرسی کے مخالفین کی طرف سے پرامن مظاہرین پر حملے کے نتیجے میں ہوئیں جب کہ پولیس کا موقف ہے کہ جھڑپوں کی شروعات مظاہرین کی طرف سے ہوئی۔

پیر کو بھی ایسی ہی جھڑپوں میں چار افراد موت کا شکار ہوئے تھے۔

عبوری صدر نے لوگوں سے پرامن رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ آگے بڑھنے کے لیے مصالحت کا عمل ضروری ہے۔

محمد مرسی تین جولائی کو برطرف کیے جانے کے بعد سے فوج کی تحویل میں ہیں۔ ان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ان کا برطرف صدر سے کوئی رابطہ نہیں ہوسکا ہے اور انھوں نے مرسی کی رہائی کے لیے قانونی کارروائی کی دھمکی بھی دے رکھی ہے۔
XS
SM
MD
LG