رسائی کے لنکس

مصر کے مسافر طیارے کے ملبے کی تلاش جاری


متاثرین

متاثرین

مصر نے کہا ہے کہ اس مرحلے پر حادثے کی وجوہ سے متعلق کوئی حتمی بات نہیں کی جا سکتی۔ لیکن، مصر کے اہل کاروں نے یہ امکان ظاہر کیا ہے کہ ’’تکنیکی ناکامی کی جگہ اس کا زیادہ تر سبب دہشت گردی معلوم ہوتی ہے‘‘

پیرس سے قاہرہ جاتے ہوئے لاپتا ہو جانے والے مصری مسافر طیارے کے ملبے کی تلاش تاحال جاری ہے۔

قبل ازیں تلاش کے کام پر مامور دستوں نے بتایا تھا کہ پیرس سے قاہرہ پرواز کے دوران مصر ایئر کے جس مسافر جیٹ طیارے کو حادثہ پیش آیا، ’’اُس کا ملبہ بحیرہٴ روم میں نظر آگیا ہے‘‘۔

مصر نے کہا ہے کہ اس مرحلے پر حادثے کی وجوہ سے متعلق کوئی حتمی بات نہیں کی جا سکتی۔ لیکن، مصر کے اہل کاروں نے امکان ظاہر کیا ہے کہ ’’تکنیکی ناکامی کی جگہ اس کا زیادہ تر سبب دہشت گردی معلوم ہوتی ہے‘‘۔

اِس سے قبل، مصر کے شہری ہوابازی کے وزیر نے کہا تھا کہ ’’تکنیکی خرابی کی جگہ زیادہ امکان دہشت گردی کا ہو سکتا ہے‘‘۔

شریف فتحی نے حادثے پر یہ رائے زنی کی ہے، ایسے میں جب بحیرہٴ روم میں گر کر تباہ ہونے والے مسافر طیارے کی تلاش کی کارروائی جاری ہے، جس میں 66 مسافر سوار تھے۔

ایئربس جیٹ طیارہ جمعرات کو راڈار سے غائب ہوا، جس سے کچھ ہی لمحے قبل جہاز مصر کی فضائی حدود میں داخل ہوا تھا۔ اس پرواز کا پیریس سے قاہرہ تک کا دورانیہ چار گھنٹے کا ہوتا ہے۔

مصر کے ایک اہل کار نے کہا ہے اگر حادثے کی وجہ دہشت گردی ثابت ہوتی ہے، تو سکیورٹی کے اس جھول کی ذمہ داری فرانس پر عائد ہوگی۔

بقول اُن کے، ’’اگر یہ طے ہو جاتا ہے کہ تخریب کاری ہی اِس کا اصل سبب تھی، تو پھر ہمیں اس بات کو مدِنظر رکھنا ہوگا کہ طیارے نے فرانس سے پرواز بھری تھی، نا کہ مصر سے‘‘۔

یونان سے موصول ہونے والی ابتدائی اطلاعات سے پتا چلتا ہے کہ آثار ہیں کہ وہاں ملبہ دیکھا گیا ہے۔ تلاش اور بچاؤ کے جاری کام میں امریکہ مدد فراہم کر رہا ہے، جس کا ’پی 3 لانگ رینج طیارہ‘ فضا میں بلند ہے۔

اس سے قبل، فرانس کے صدر فرانسواں اولاند نے تصدیق کی تھی کہ جمعرات کو پیرس سے قاہرہ جاتے ہوئے لاپتا ہونے والا مصری مسافر طیارہ گر کر تباہ ہوگیا ہے۔

ایجپٹ ایئر کی اس پرواز ایم ایس 804 پر تین بچوں اور عملے کے ارکان سمیت 66 افراد سوار تھے اور علی الصبح مصر کی فضائی حدود میں داخل ہوتے ہی اس کا رابطہ راڈار سے منقطع ہو گیا تھا۔

ٹی وی پر اپنے خطاب میں فرانسیسی صدر کا کہنا تھا کہ "ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ یہ معلوم کیا جائے کہ طیارے کو کیا واقعہ پیش آیا۔"

یونان اور مصر کے کارکنان لاپتا ہو جانے والے مصری مسافر طیارے کی تلاش میں مصروف ہیں۔

یونان کے حکام کا کہنا ہے کہ تلاش کا کام جزیرہ کارپاتھوس سے 130 ناٹیکل میل کے فاصلے پر کیا جا رہا ہے۔

فرانس کے وزیر خارجہ جان مارک ایراول کا کہنا ہے کہ ان کا ملک جہازوں اور کشتیوں کی مدد سے تلاش کی سرگرمیوں میں حصہ لے گا اور وہ اس ضمن میں مصری حکام سے رابطے میں ہیں۔

مسافروں کے اقربا ایک دوسرے کو دلاسہ دے رہے ہیں

مسافروں کے اقربا ایک دوسرے کو دلاسہ دے رہے ہیں

فرانس اور مصر کے وزرائے خارجہ نے طیارے کے مسافروں کے اہل خانہ سے افسوس کا اظہار بھی کیا ہے۔

مصر کے وزیراعظم شریف اسماعیل نے قاہرہ کے ہوائی اڈے پر صحافیوں کو بتایا کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ جہاز کسی تکنیکی خرابی یا دہشت گرد حملے کا نشانہ بنا۔

"ہم فی الوقت اس کی تصدیق یا تردید نہیں کر سکتے تاوقتیکہ تحقیقات مکمل نہ ہو جائیں، اسی بنیاد پر ہم بتا سکیں گے کہ صورتحال دراصل ہے کیا۔"

بتایا جاتا ہے کہ جس وقت طیارے کا رابطہ منقطع ہوا اس وقت وہ 37000 ہزار فٹ کی بلندی پر محو پرواز تھا۔

مصر کے محکمہ ہوابازی کے ایک ترجمان اہاب رسلان نے اسکائی نیوز عربیہ کو بتایا کہ ہو سکتا ہے کہ جہاز سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا ہو۔

بتایا جاتا ہے کہ جہاز کے مسافروں میں مصر، فرانس، برطانیہ، عراق، کویت، سعودی عرب، سوڈان، چاڈ، پرتگال، الجزائر اور کینیڈا کے شہری شامل ہیں۔ ان میں کوئی امریکی شہری شامل نہیں۔

ایجپٹ ایئر نے مسافروں کے اہل خانہ کے لیے ہنگامی فون نمبر جاری کیے ہیں جب کہ انھیں ہوائی اڈے پر مترجم کی سہولت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔

فضائی کمپنی کے مطابق مسافر طیارے کو ماہر پائلٹ اڑا رہے تھے جن کے پاس 6275 گھنٹوں کی پرواز کے علاوہ 2101 گھنٹوں کا ایئربس 320 اڑنے کا تجربہ ہے جب کہ معاون پائلٹ بھی اب تک 2766 گھنٹوں کی پرواز کا تجربہ حاصل ہے۔ یہ طیارہ 2003ء کا ساختہ ہے۔

مصر کی فضائی حدود میں گزشتہ سال ایک روسی مسافر طیارہ بھی تباہ ہو گیا تھا جس کے بارے میں ماسکو کا کہنا ہے کہ اسے شدت پسندوں نے نشانہ بنایا جب کہ تحقیقات کے مطابق اس جہاز کو دھماکا خیز مواد سے فضا میں ہی تباہ کیا گیا۔

مارچ میں اسی فضائی کمپنی کے ایک طیارے کو بم کی غلط اطلاع دے کر ایک شخص نے ہائی جیک کر لیا اور اسے زبردستی قبرص کے ہوائی اڈے پر اترنے میں مجبور کیا۔ چھ گھنٹوں کی تگ و دو کے بعد یہ معاملہ حل ہوا اور ہائی جیکر کو گرفتار کر لیا گیا۔

XS
SM
MD
LG